خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 20 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 20

خطبات طاہر جلد ۲ 20 20 خطبه جمعه ۱۴/جنوری ۱۹۸۳ء اس لئے یہ اسوہ بنا ہے۔ورنہ ایک انسان کو کسی دوسرے انسان کے لئے نہ ناصح بنے کا حق ہے نہ اسوہ بنے کا حق ہے۔مالک سے بات پھوٹتی ہے اور خالق سے بات چلتی ہے۔جب تک کسی کو اللہ تعالیٰ کی نمائندگی کا حق عطا نہ ہو نہ وہ نصیحت کرنے کا اہل ہوتا ہے نہ نصیحت کرنے کا حق رکھتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان چند کلمات میں حیرت انگیز طور پر نصیحت کے معاملہ میں تمام حکمتیں بیان فرما دیں اور اسی سے پھر آگے نصیحت کے متعلق جو ضروری ہدایات ہیں مثلاً کیا کیا چیز میں اختیار کرنی چاہئیں اور کیا کیا نہیں کرنی چاہئیں، یہ تمام باتیں بھی اسی ایک چھوٹے سے جملے سے پھوٹتی ہیں۔فرمایا گیا، اللہ کا رنگ ہے اور اس سے بہتر رنگ کون سا ہے جس کو تم اختیار کرو گے۔لیکن سب دنیا والے جانتے ہیں کہ رنگ خواہ کتنا ہی اچھا ہوا گر رنگ قبول کر نیوالے مادہ میں اہلیت موجود نہ ہو اور وہ اسے قبول نہ کر سکے تو گھنٹوں کیا ، دنوں کیا ، سالوں بھی اس مادہ کو رنگ میں ڈبوئے رکھیں گے وہ اسی طرح بغیر رنگ کا اثر قبول کئے باہر نکل آئے گا تو پھر لازماً قرآن کریم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ رنگ کرنے والوں کے اطوار اور اخلاق کو بھی بیان کرے، ان کی ذمہ داریوں کو بھی بیان کرے، ان کو یہ بتائے کہ کس طرح رنگ چڑھائے جاتے ہیں اور جن پر رنگ چڑھانا ہے ان کی تمام ذمہ داریوں کو بھی بیان کرے اور ان کمزوریوں سے ان کو متنبہ کرے جن کے نتیجہ میں صفات باری تعالیٰ کے حسین رنگ چڑھ ہی نہیں سکتے۔چنانچہ اس مضمون پر قرآن کریم میں حیرت انگیز تفصیل کے ساتھ تعلیم موجود ہے۔ایک مسلمان اگر دنیا کی تمام کتابوں کے مقابل پر قرآن کریم کی ایک تعلیم ہی کو سامنے رکھ لے اور قرآن کریم کی آیات پر غور کر کے خود ذہنی طور پر تیار ہو جائے تو وہ بے تکلف اور بلا جھجک دنیا کے سارے مذاہب کو یہ چیلنج دے سکتا ہے کہ تم صرف اسی تعلیم کی کوئی نظیر ایک مذہب سے نہیں سارے مذہبوں کے مجموعہ سے پیش کر کے دکھا دو اور یہ دعوای محض ایک بڑا نہیں ، خواہ مخواہ کی لاف زنی نہیں کیونکہ جیسا کہ میں بیان کروں گا جب بات کھلے گی تو کھلتی چلی جائے گی اور یہ حقیقت واضح ہو کر سامنے آ جائے گی کہ قرآن کریم نے اس موضوع پر بڑی گہری روشنی ڈالی ہے ( اور ابھی ان تمام آیات کو میں نے مجتمع نہیں کیا کیونکہ وقت بھی تھوڑا تھا اور بہت سی مثالیں دینے سے بھی قاصر رہوں گا ) سر دست اس مختصر وقت کی رعایت سے میں چند آیات آپ کے سامنے رکھوں گا ان سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ اس