خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 251 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 251

خطبات طاہر جلد ۲ 251 خطبه جمعه ۲۹ ر ا پریل ۱۹۸۳ء جھوٹا ہوں تو عنداللہ میں سزا کے لائق ٹھہروں گا۔میرے جرم کا وبال مجھ پر پڑے گا۔تم کیوں تکلیف میں مبتلا ہو اور مصیبت میں پڑے ہوئے ہو کہ یہ جھوٹا ہے اس کو تباہ کر دو۔جھوٹوں کو تباہ کرنا تو اللہ کا کام ہے جس پر جھوٹ بولا جاتا ہے، تم سچائی کے کیا لگتے ہو؟ کیا تم خدا کی طرف سے داروغہ بنائے گئے ہو کہ جھوٹوں کو تباہ کرنے کے لئے تمہیں کھڑا کیا گیا ہو۔اگر تمہیں جھوٹوں کو تباہ کرنے کے لئے کھڑا کیا گیا ہے تو ساری دنیا جھوٹ سے بھری پڑی ہے۔کہاں کہاں نیٹو گے اور کس کس کو ہلاک کرو گے؟ یہ تمہارے بس کی بات نہیں ہے۔حضرت نوح فرماتے ہیں کہ معقول طریق ہے اور فطرت کی آواز ہے کہ میں تم سے ایک انسانی سلوک کر رہا ہوں۔تم بھی مجھ سے اسی قسم کا سلوک کرو۔میں تمہیں پیغام پہنچا تا ہوں۔اگر تم اسے نہیں مانتے تو ٹھیک ہے میں تو خدا کی طرف بلا رہا تھا اور یہ کہ رہا تھا کہ ایک دن تم بھی خدا کے پاس جاؤ گے۔اس کے بعد مجھے کوئی فکر نہیں رہتی۔اگر میں سچا ہوں تو تم خود ہی دیکھ لو گے۔اور اگر میں جھوٹا ہوں تو جس خدا پر جھوٹ بول رہا ہوں وہ مجھے پکڑے گا لیکن خدا کو تو میرے خلاف کوئی غیرت نہیں آ رہی اور تمہیں جوش آ رہا ہے۔یہ کونسی معقول بات ہے۔فرمایا فَعَلَى اجْرَامِی اگر میں خدا پر جھوٹ بول رہا ہوں تو میرے اس جرم کا وبال مجھ پر پڑے گا اور میں ہلاکت سے نہیں بچ سکتا اس لئے تم بالکل فکر نہ کرو۔وَأَنَا بَرِى مِمَّا تُجرِمُونَ اور میں تمہارے جرموں سے بری ہوں۔کیسی پاکیزہ دلیل ہے اور کیسا عمدہ طرز استدلال اس کو سمجھنے کے لئے نہ عربی دانی کی ضرورت ہے نہ انگریزی کے علم کی نہ فرانسیسی سیکھنے کی اور نہ ہی دنیا کی کسی اور زبان کو جاننے کی ضرورت ہے۔انسانی فطرت کی ایک ایسی زبان ہے جسے ہر کوئی بیان کرسکتا اور سمجھ سکتا ہے۔سچائی کا تعلق تو دلوں سے ہے۔اگر سچائی دلوں میں داخل نہ ہو، جبر سے کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔جبر سے گردنیں تو کائی جاسکتی ہیں لیکن قائل نہیں کئے جا سکتے۔پس انبیاء ہمیشہ دوطرفہ آزادی کے قائل رہے ہیں، یکطرفہ آزادی کے نہیں۔لیکن بعض دفعہ علما کہہ دیتے ہیں کہ آزادی ضمیر یکطرفہ ہے۔یعنی سچائی کو تو جبر کاحق ہے لیکن جھوٹ کو نہیں حالانکہ یہی تو جھگڑا ہے جسے طے کرنا ہے کہ جھوٹ کونسا ہے اور سچ کونسا ہے؟ اگر دونوں فریق اپنے آپ کو سچا کہہ رہے ہوں تو اگر سچ کو جبر کا حق ہے تو دوسرے کو بھی یہ حق حاصل ہوگا اور اگر دونوں فریق ایک دوسرے کو جھوٹا سمجھ رہے ہوں تو اگر جھوٹ کو جبر کا حق نہیں تو پھر دوسرے کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے۔اس لئے