خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 242 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 242

خطبات طاہر جلد ۲ 242 خطبه جمعه ۲۹ اپریل ۱۹۸۳ء آجکل میں جماعت کو خاص طور پر داعی الی اللہ بننے کی تلقین کر رہا ہوں۔اسی سلسلے میں میں نے نصیحت بالحق جس کو تواصوا بِالْحَقِّ کہتے ہیں اس کی طرف متوجہ کیا تھا۔اسی طرح نصیحت بالصبر کی طرف بھی متوجہ کیا تھا۔انبیاء کی تاریخ جو قرآن کریم میں محفوظ ملتی ہے اس میں ان دونوں امور کے نہایت ہی اعلیٰ نمونے نظر آتے ہیں۔اور اگر ہم اس تاریخ پر اس نقطہ نگاہ سے نظر دوڑائیں کہ ہمیں بہترین نصیحت کے طریق معلوم ہوں ، نصیحت حق کے ساتھ کیسے کی جاتی ہے، کس بات کو نصیحت بالحق کہا جاتا ہے اور صبر کے بہترین طریق معلوم ہوں تو ان قصص پر ہمیں غور کرتے رہنا چاہئے۔سب سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر قرآن کریم میں ملتا ہے جن کی نصیحتیں محفوظ کی گئیں۔اگر چہ ان سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام، حضرت شیث علیہ السلام اور ایک اور نبی گزرے ہیں لیکن جہاں تک قرآن کریم میں انبیاء کی نصائح کو محفوظ کرنے کا تعلق ہے، پہلے نبی جن کی نصیحتوں کا نمونہ ہمارے سامنے رکھا گیا وہ حضرت نوح علیہ السلام ہیں۔حضرت نوح علیہ السلام کی نصیحتوں پر غور کریں یا دیگر انبیاء کی نصیحتوں پر جیسا کہ میں بعد میں بیان کروں گا، ان سب میں ہمیں ایک بات نمایاں طور پر نظر آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ نصیحتوں میں منقولی دلائل کی بجائے فطری دلائل پر زور دیا گیا ہے۔میں نے عملاً فطری دلائل کے الفاظ استعمال کئے ہیں عقلی دلائل کے نہیں اس لئے کہ عقلی دلائل میں فلسفے اور منطق کے ایچ بیچ ہوتے ہیں لیکن فطری دلائل میں ان کو کہتا ہوں جو انسانی فطرت کی آواز ہوتی ہے۔اس کے لئے کسی لمبی چوڑی فلسفیانہ ، منطقیانہ یا عقلی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔دل سے نکلی ہوئی سچائی کی آواز ہوتی ہے جو سیدھی دل میں اتر جاتی ہے اور چونکہ اس کے پیچھے کوئی منطقی ایچ بیچ نہیں ہوتا اس لئے اس میں کسی کج بحثی کا بھی کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔سیدھی بات ہے کہ مانو یا نہ مانو تمہاری مرضی۔مانو گے تو تمہیں فائدہ ہوگا اور اگر نہیں مانو گے تو نقصان اٹھاؤ گے۔یہ طرز ہے انبیاء کی نصیحت کی جو اکثر صورتوں میں ہمیں محفوظ ملتی ہے۔حجت و براہین کا بھی ذکر ملتا ہے جو ایک خاص انداز کی حجت و براہین ہیں لیکن جہاں تک حضرت نوح علیہ السلام کی نصائح کا تعلق ہے وہ ساری فطری نوع کی نصائح ہیں۔سب سے پہلے تو قرآن کریم فرماتا ہے کہ جب