خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 241
خطبات طاہر جلد ۲ 241 خطبه جمعه ۲۹ / اپریل ۱۹۸۳ء حضرت نوح علیہ السلام کا طریق نصیحت ( خطبه جمعه فرموده ۲۹ را پریل ۱۹۸۳ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوه) تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے سورۃ الاعراف کی مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی: لَقَدْ أَرْ سَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ فَقَالَ يُقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ مَالَكُمْ مِنْ إِلَهِ غَيْرُهُ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ أبَلِّغُكُمْ رِسَلْتِ رَبِّي وَانْصَحُ لَكُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَالَا تَعْلَمُونَ أَوَ عَجِبْتُمْ أَنْ جَاءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلَى رَجُلٍ مِنْكُمْ لِيُنْذِرَكُمْ وَلِتَتَّقُوا وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ اور پھر فرمایا: (الاعراف: ۶۳۶۰-۶۴) میں نے ایک گزشتہ خطبے میں جماعت کو ان انبیاء کے واقعات کی طرف توجہ دلائی تھی جن کو قرآن کریم نے ہمارے لئے نصیحت کے طور پر محفوظ کیا ہے۔قرآن کریم کا یہ اسلوب ہے کہ جو بھی تعلیم دیتا ہے یا جن باتوں سے منع فرماتا ہے تاریخ مذاہب سے ان کی ایسی عملی مثالیں بھی ہمارے سامنے رکھتا ہے جو اپنے مضمون میں ایک خاص شان رکھتی ہیں۔پس کسی موضوع پر بھی ہدایت اور رہنمائی کے لئے آپ قرآن کریم کی طرف رجوع کریں تو آپ کو نہ صرف تعلیم ملے گی بلکہ اس کے عملی نمونے بھی قرآن کریم میں نظر آئیں گے۔