خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 231 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 231

خطبات طاہر جلد ۲ 231 خطبه جمعه ۲۲ ر ا پریل ۱۹۸۳ء متعلق بتانا چاہتا ہوں۔جیسا کہ میں نے پہلے یہ بات کھول دی ہے ۸/ اپریل کے خطبہ میں سورۃ العصر کے آخری حصہ کی طرف میری توجہ زیادہ تھی اور میں جماعت کو خصوصیت کے ساتھ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بالصبرِ کے مضمون کی طرف متوجہ کرنا چاہتا تھا اس لئے اس خطبہ کا پہلا حصہ محض سرسری طور پر مذکور ہوا لیکن وہ ایک بہت ہی دلچسپ قصہ ہے اور اپنی ذات میں اس لائق ہے کہ اس کے متعلق نسبتاً زیادہ کھول کر بات جماعت کے سامنے پیش کی جائے۔عصر کا لفظ ایک حیرت انگیز لفظ ہے جو مجموعہ تضادات ہے یعنی اس کے معنوں میں ضدین پائی جاتی ہیں۔مثلا عصر کا ایک مطلب ہے نچوڑنا اور ایک مطلب ہے عطا کرنا یعنی انسان کسی چیز کو نچوڑ کر رس حاصل کرتا ہے یہ بھی عصر کا مطلب ہے اور کسی پر فیض جاری کرے یہ بھی عصر کا مطلب ہے اور یہ دونوں معنے اکٹھے ہو جاتے ہیں۔جب یہ کہا جاتا ہے کہ عصر کے معنے ایسی گھنگھور گھٹا کے ہیں جو پانی سے خوب بھری ہوئی ہو اور وہ کھل کر برسے۔پھر ایسے موقع پر اہل عرب عصر مصدر سے فعل نکالتے ہیں اور عصر کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ ایسی گھنگھور گھٹا جو خوب کھل کر برسے۔اس میں نچوڑ نے کے معنے بھی آگئے اور عطا کے معنے بھی آگئے۔اور اس کے بالکل بر عکس معنے بھی عصر کے لفظ میں پائے جاتے ہیں اور وہ ہیں روک رکھنا اور ایک فیض یا تعلق کو دوسرے تک پہنچنے نہ دینا، کسی کے راستے میں حائل ہو کر اس کو محروم کر دینا۔مثلاً ایک انسان فیض رساں ہو اس کے راستہ میں کوئی آکر کھڑا ہو جائے اور اس کے فیض کو دوسرے تک پہنچنے نہ دے۔اللہ تعالیٰ نے اسے جو کچھ عطا کیا ہوا سے وہ اپنے تک محدود کر لے اور کنجوسی کے ساتھ اپنے تک روک رکھے یہ بھی عصر کے معنوں میں شامل ہے۔پس دیکھئے پہلے معنی اور دوسرے معنی میں بالکل ضد پائی جاتی ہے۔اسی طرح عصر کا معنی صبح سے لے کر سورج کے زوال تک کا وقت بھی ہے یعنی جب سورج چڑھ رہا ہو اور کائنات کو منور کر رہا ہو اور اپنے عروج کی طرف رواں ہو اس وقت کو بھی عصر کہا جاتا ہے اور پھر بالکل اس کے برعکس سورج کے زوال سے لے کر غروب تک کا زمانہ بھی عصر کے معنوں میں شامل ہے۔عرب دونوں وقتوں کے لئے عصر کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔پھر عصر کے لفظ میں ایک اور عجیب ضد یہ پائی جاتی ہے کہ دن