خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 222 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 222

خطبات طاہر جلد ۲ 222 خطبه جمعه ۱۵ راپریل ۱۹۸۳ء جرمنی ہے جو خاص طور پر ان صنعتوں میں آگے نکل آئی ہیں۔اسی طرح جماعت احمدیہ کے سائنسدان بھی احمدی سائنسدان کے لحاظ سے دنیا میں ایک نام پیدا کریں۔احمدی ایجادات پر احمدیت کی ایسی چھاپ ہو جس سے معلوم ہو کہ یہ چیز لازماً اپنی نوع میں بہترین ہے۔لیکن اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے دیانتداری کی بھی بہت ضرورت ہوا کرتی ہے کیونکہ سائنسدان تو ایک ایجاد پیش کر دیتا ہے لیکن اگر صنعت کار دیانتدار نہ ہوتو وہ اس ایجاد کو ضائع بھی کر سکتا ہے اور اس کا وقار کھو بھی سکتا ہے اور اپنی دیانتداری کی وجہ سے اس کا وقار بھی قائم کر سکتا ہے اور آگے بھی بڑھا سکتا ہے لیکن دیانتداری صرف اس میدان میں ہی ضروری نہیں بلکہ ہر دوسرے میدان میں بھی ضروری ہے کیونکہ دیانتداری کے بغیر کوئی انسان کسی چیز میں بھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔یہ کھیل میں بھی ضروری ہے اور تجارت میں بھی ضروری ہے اس لئے احمدی تجار کو بھی اور احمدی صنعت کاروں کو بھی اور احمدی سائنسدانوں کو بھی بلکہ ہر میدان میں آگے بڑھنے کا ارادہ رکھنے والوں کو بھی لازماً اپنی دیانت کے معیار کو بڑھانا ہوگا۔بہت سے ایسے پسماندہ ملک ہیں جن کو بددیانتیوں کی وجہ سے بہت گہرے اقتصادی نقصان پہنچے ہیں۔بد قسمتی سے ہمارا ملک بھی ان میں سے ایک ہے۔یہاں بہت اچھی اچھی صنعتیں موجود تھیں جن کے ذریعے تمام دنیا کی منڈیوں پر قبضہ کیا جا سکتا تھا۔مثلاً سیالکوٹ میں کھیلوں اور اوزاروں کی صنعت تھی بلکہ یہ دونوں صنعتیں ابھی تک موجود ہیں لیکن جس طرح یہ تمام دنیا کی منڈیوں پر قابض ہو سکتی تھیں اس طرح نہیں ہو سکیں۔جب میں نے باہر جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ پاکستان کی تجارت کو زیادہ تر نقصان تاجروں یا صنعتکاروں کی بددیانتی کی وجہ سے پہنچا ہے۔پس جب میں جماعت احمدیہ سے کہتا ہوں کہ وہ صنعت میں بھی سب سے آگے نکل جائے اور تجارت میں بھی سب سے آگے نکل جائے اور اس مقصد کے لئے مرکز میں ایسے سیل قائم کئے جائیں جہاں ان سب کے تبادلہ خیالات کے لئے ایک مرکز قائم ہو اور ایک دوسرے سے استفادہ کا نظام قائم ہو، تو یہ ہو نہیں سکتا جب تک جماعت کے دیانت کے معیار کو بھی اونچا نہ کیا جائے اس لئے ہمارے سارے تجار کو چاہئے کہ وہ لازماً ایک Devotion کے ساتھ ، ایک وقف کی روح کے ساتھ اپنی دیانت کے معیار کو بلند کریں اسی طرح تمام صنعتکاروں کو بھی چاہئے کہ اسی روح کے ساتھ صنعت