خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 13 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 13

خطبات طاہر جلد ۲ 13 خطبہ جمعہ ۷ / جنوری ۱۹۸۳ء چادر عکرمہ کو عطا کر دی۔اس نے کہا یا رسول اللہ (ﷺ ) مجھے معاف کر دیں، میں نے بہت ظلم کئے ہیں، میں نے آپ کو بہت دکھ دیئے ہیں۔آپ نے فرمایا کیسی معافی ، میں تو تمہیں معافی سے کچھ زیادہ دینا چاہتا ہوں۔آپ نے اسکو معاف بھی کر دیا اور فرمایا میں تمہیں کہتا ہوں مانگو جو مانگتے ہواگر میری طاقت میں ہوا تو خدا کی قسم میں تمہیں عطا کر دوں گا۔عکرمہ نے کہا یا رسول اللہ ! اگر آپ نے عطا کرنا ہے تو پھر میں یہ مانگتا ہوں کہ میرے لئے بخشش کی دعا کریں۔اللہ تعالیٰ میرے سارے گناہ معاف فرما دے۔آپ نے اسی وقت دعا کی اے اللہ ! عکرمہ کے سارے گناہ معاف فرما دے، میں تیرے حضور اس کی بخشش کی التجا کرتا ہوں۔یہ تھے ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی ہے جنہوں نے اپنے دشمنوں کو معاف کر کے ایک کامل اور بے مثال نمونہ قائم کر دیا۔پس جب لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کے ان واقعات پر آپ غور کریں گے تو ایک نہیں دو نہیں ایسے سینکڑوں واقعات آپ کے سامنے آئیں گے جن کے اثرات پھیلتے چلے جاتے ہیں اور عجیب شان کے ساتھ وہ اثرات نئے اثرات میں تبدیل ہو جاتے ہیں یعنی احسان ایک جگہ جا کر رک نہیں جاتا بلکہ اس سے نئے احسانات کے چشمے پھوٹنے لگ جاتے ہیں۔یہ خیال کر لینا کہ آنحضور علی نے جب معاف کر دیا تھا تو معاف کرنا بڑا آسان تھا، اس سے بڑی بیوقوفی کوئی نہیں کیونکہ ابھی تو وہ خون تازہ تھا جو مسلمان مظلوموں کا بہایا گیا تھا۔ابھی تو اس کا رنگ بھی تبدیل نہیں ہوا تھا۔حضوراکرم ﷺ جب ہند کو معاف فرمارہے تھے تو کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ حضور بھول گئے تھے کہ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کیا ہوا تھا، جب حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ظلم کرنے والوں کو معاف فرما رہے تھے تو کیا آپ کو یاد نہیں رہا تھا کہ بلال کو کس طرح گلیوں میں گھسیٹا جاتا تھا۔ایک ایک چیز آپ کے ذہن میں تھی ، ایک ایک دکھ تازہ تھا کتنا غیر معمولی صبر آپ نے کیا ہوگا۔کتنا غیر معمولی دکھ برداشت کر کے آپ نے معاف کیا ہوگا۔یہ بھی آپ کی سیرت طیبہ کا ایک حسین منظر ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے دکھ کو ان لوگوں کے دکھ میں تبدیل کر دیا جن کو آپ نے معاف کیا تھا۔بے شک معافی تو ان کو مل گئی لیکن انہوں نے ہمیشہ پریشانی کی حالت میں زندگی بسر کی۔ان کے دلوں کے دکھ تازہ رہے۔حضور اکرم نے ان کو معاف کرتے وقت جو دکھ محسوس کیا ہوگا معاف ہونے کے باوجود وہ ساری عمر ا نکے سینوں میں دکھ بن کر کھٹکتا رہا۔معافی کے نتیجہ میں بعض دفعہ بے حیائی پیدا