خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 12
خطبات طاہر جلد ۲ 12 خطبہ جمعہ ۷ /جنوری ۱۹۸۳ء اور یہ تھا لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کا حسین مظاہرہ جو حضور اکرم سے رونما ہوا۔پھر عکرمہ بن ابی جہل کو معاف کرنے کا واقعہ بھی کچھ کم نہیں ہے۔وہ ابو جہل جو سب سے زیادہ خباثت اور دکھ دینے میں آگے بڑھ گیا تھا اس کا بیٹا عکرمہ بھی ان لوگوں میں سے تھا جس کو آنحضرت ﷺ نے شروع میں معاف نہ کرنے کا فیصلہ فرمایا تھا۔یہ وہی عکرمہ ہے جس نے جنگ احد میں خالد بن ولید کے علاوہ غیر معمولی کردار ادا کیا تھا۔اس جنگ میں مسلمانوں کے خلاف پانسہ پلٹنے کا اگر کوئی سہرا کہلا سکتا ہے تو وہ اس کے سر پر تھا۔یہ نہایت تیز طرار اور بڑا قابل جرنیل تھا۔یہ فتح مکہ کے موقع پر اس خوف سے بھاگ گیا کہ میں آنحضرت ﷺ کے حلقہ اثر ہی سے نکل جاؤں گا یعنی جہاں تک حضور اکرم ﷺ کا اثر ہے وہاں سے باہر نکل جاؤں۔چنانچہ وہ جنوب کی طرف بھاگا اور پھر وہاں سے حبشہ کی طرف جانے کے لئے کشتی میں بیٹھ رہا تھا تو اتنے میں اس کی بیوی وہاں پہنچ گئی اسے کہنے لگی تمہارے دماغ کو کیا ہو گیا ہے تم دنیا میں سب سے بڑے محسن اور سب سے زیادہ بخشش کرنے والے سے بھاگ رہے ہو۔اس نے کہا کیا رسول اللہ علہ مجھے بھی معاف کر دیں گے؟ وہ کہنے لگی تم چل کر دیکھو تو سہی۔رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہو گیا کہ عکرمہ کو اس کی بیوی لینے گئی ہے اور شاید اس کو لے کر واپس آجائے اب دیکھیں کہ آپ انتقام کس طرح لے رہے ہیں لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کا کیا مفہوم اس وقت ظاہر ہوتا ہے صحابہ کو نصیحت فرمائی کہ دیکھو! عکرمہ بن ابی جہل نہ کہنا اس سے اسکو دکھ پہنچے گا۔مردوں کے دکھ تم زندوں میں کیوں منتقل کرتے ہو۔ابو جہل مر گیا وہ خدا کے حضور حاضر ہو گیا اس کے ساتھ جو سلوک ہونا ہے وہ تو اس کے ساتھ ہوگا مگر اس کی وجہ سے تم زندوں کو کیوں دکھ دیتے ہو۔اس لئے عکرمہ کو ہر گز عکرمہ بن ابی جہل نہیں کہنا۔جب وہ آیا اور آنحضرت علی کو خبر ملی تو اسی وقت اٹھ کھڑے ہوئے اور چادر بھی نہیں لی۔چل پڑے اور فرمانے لگے مــــرحبـــا بالراكب المهاجر۔مرحبا بالراكب المهاجر اوٹنی کے سوار مہاجر کو مرحبا مرحبا! وہ واپس آگیا۔(المنتظم فی تاریخ الملوک و الامم، ذکر عکرمہ بن ابی جھل جلد ۲ صفحہ ۱۵۶۔صفوة الصفوة ، ذکر عکرمہ بن ابی جھل جلد اصفحہ ۷۳۰۔الاصابۃ فی تمییز الصحابہ، ذکر عکرمہ بن ابی جہل جلد ۴ صفحه ۵۳۸) یہ تھا سلوک حضرت محمد مصطفی میلے کا اپنے جانی دشمنوں کے ساتھ اور یہ تھالَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کا منظر جس کی نظیر پیش کرنے سے دنیا قاصر ہے۔آپ نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ اپنی