خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 179
خطبات طاہر جلد ۲ 179 خطبه جمعه ۲۵ / مارچ ۱۹۸۳ء کمائیں گے کیونکہ خدا کی رضا کی خاطر وہ اس وقت بھی اپنا مال چھوڑ بیٹھے تھے جبکہ کوئی جبر نہیں تھا۔غرض جو قوم خدا کی رضا کی خاطر مال چھوڑ رہی ہو اس کے متعلق یہ توقع رکھنا غلطی ہے کہ وہ خدا کی رضا پر مال کو ترجیح دے گی اس لئے واقعتہ اگر کسی قوم میں یہ صفت پیدا ہو جائے کہ وہ اللہ کی رضا کی خاطر مال چھوڑ سکتی ہے، دکھاوے کی خاطر نہیں بلکہ اللہ کی رضا کی خاطر، دنیا کے فوائد کے لئے نہیں بلکہ محض اللہ کی رضا کی خاطر، اس قوم کی دیانتداری کی قرآن کریم ضمانت دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ ایسی قوم میں یہ نظام پینے گا جسے اسلامی مالی نظام کہتے ہیں۔ایسے میں جتنا زیادہ سمجھدار اور جتنا زیادہ ذہین اور جتنا زیادہ دیانتدار انسان ابھر کر دنیا کے سامنے آتا چلا جائے گا اتنا ہی زیادہ روپیہ اس کی طرف پھینکا جائے گا۔گویا دیانت داری روپے کے ارتکاز کا ذریعہ بن جائے گی اور پھر اس کی تجارت میں اور اس کی صلاحیتوں میں باقی قوم بھی شریک ہو جائے گی۔اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اسلامی مالی نظام کو کنجوسی اور نفسانیت اور خود غرضیوں سے بچایا گیا ہے جبکہ امر واقعہ یہ ہے کہ سودی مالی نظام کا انحصار کلیتہ خود غرضی پر ہے۔دینے والا بھی خود غرضی کے ساتھ دیتا ہے اور ایک آنہ بھی ہرگز چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔لینے والا ایک اور چالا کی میں بیٹھا ہوتا ہے وہ یہ سمجھتا ہے اس بے وقوف کو پتہ نہیں کہ جس جگہ یا جس ملک اور جس دور میں ۱۳ فیصدی سود مل رہا ہے وہاں تجارت میں ۵۰ فیصدی تک بھی فائدہ ہو جاتا ہے۔۲۰۔۲۵ فیصدی تو ایک عام بات ہے اس لئے بظاہر سود لے کر یہ فائدہ اٹھا رہا ہے لیکن جب میں تجارت میں سودی روپیہ لگاؤں گا تو مجھے اس سے بہت زیادہ فائدہ پہنچے گا اس لئے میری صلاحیتوں میں یہ شریک نہیں ہے میں اس کی کمائی میں شریک ہو رہا ہوں۔پس دونوں جگہ خود غرضی کی مار پہ لوگ بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں اور یہ مالی نظام پھر ایسے بد دیانت لوگوں کے قبضہ میں چلا جاتا ہے کہ جو لوگ اپنا روپیہ دے رہے ہوتے ہیں حقیقت میں ان کا روپیہ بڑھ نہیں رہا ہوتا کیونکہ جس نسبت سے سودی سرمایہ بڑھتا ہے اس سے زیادہ تیزی کے ساتھ Inflation انفلیشن یعنی افراط زر ہو کر روپے کی قیمت کم ہو رہی ہوتی ہے۔ہر سال دیکھنے میں آتا ہے کہ روپے کی قیمت گرتی چلی جارہی ہے۔پچھلے سال روپے کی جو قیمت تھی آج اس سے ۱۵ یا ۲۰ فیصدی کم ہو چکی ہے۔اگر آپ نے بینک میں روپیہ رکھوایا ہوا ہے تو وہ زیادہ سے زیادہ 11 فیصدی بڑھ