خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 148 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 148

خطبات طاہر جلد ۲ 148 خطبه جمعه ۱۱/ مارچ ۱۹۸۳ء مَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا۔آپ نے یہ اعلان فرمایا تھا کہ سیدھا راستہ ہے تم بھی عمل صالح کرو، میں نے بھی تو عمل صالح کے ذریعہ اپنے رب کو پایا تھا اور تم بھی خدا کا شریک نہ ٹھہراؤ تمہیں بھی خدا اسی طرح مل جائے گا جس طرح مجھے ملا تھا۔اب اس اعلان میں کون سی غصہ کی وجہ تھی اور کون سی نفرت کی وجہ تھی لیکن سارا عرب آپ کی جان کے، آپ کی عزت کے، آپ کے اموال کے، آپ کے اعزہ اور اقربا کے در پے آزار ہو گیا اس لئے کہ کچھ ان کے فرضی خدا تھے۔ان کو خداؤں میں دلچسپی نہیں تھی ان کو دلچسپی ان دنیا وی نعمتوں میں تھی جن کو وہ خدا کے نام پر دنیا سے بٹورا کرتے تھے، ان کو دلچسپی ان جتھوں میں تھی جو خدا کے نام پر ان کے گردا کٹھے ہوئے تھے۔پس اگر حقیقی خدا ظاہر ہو جاتا اور دنیا اس خدا کی طرف مائل ہو جاتی تو دنیا کی وہ نعمتیں ان کے ہاتھ سے نکل جاتیں جو خدا کے نام پر انہوں نے اکٹھی کی تھیں یا اکٹھی کیا کرتے تھے۔چنانچہ دنیا میں خدا کے نام پر جب بھی بلانے والوں کی مخالفت ہوئی ہے ہمیشہ اسی وجہ سے ہوئی ہے۔دراصل بنیادی طور پر وہ قومیں دہر یہ ہو چکی ہوتی ہیں ، وہ تو میں مشرک ہو چکی ہوتی ہیں اور جب یہ اعلان ہوتا ہے کہ ان سب مصنوعی خداؤں اور ان کی طرف منسوب ہونے والی نعمتوں کو چھوڑ کر حقیقی خدا کی طرف آجاؤ تو انہیں اپنے ہاتھ سے کچھ چھوڑنا پڑتا ہے۔کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو انبیاء کے گردا کٹھے ہونے لگ جاتے ہیں اور خدا کو پا کر ہر قربانی کے لئے تیار ہو جاتے ہیں لیکن وہ جن کے دل کی گہرائیوں میں دہریت ہوجن کو حقیقی خدا پر ایمان نہ ہو وہ پھر لازماً مخالفت کرتے ہیں کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم کھو تو دیں گے لیکن پائیں گے کچھ نہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی سب سے پہلے اسی قرآنی تعلیم کے مطابق دنیا کو خدا کی طرف بلایا۔رب کی طرف بلانے میں ایک اور بھی حکمت پیش نظر ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ ایک ایسی دولت ہے جس کو پانے کے بعد انسان تنہا اس سے لذت یاب ہو ہی نہیں سکتا۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں دو قسم کی نعمتیں ہیں۔ایک وہ جن کے ختم ہونے کا خوف انسان کو لاحق ہو اور دوسری وہ جو نہ ختم ہونے والی نعمت ہو۔جن نعمتوں کے ختم ہونے کا خطرہ ہو ان کے اردگرد باڑیں بن جایا کرتی ہیں، ان کے گرد فصیلیں کھڑی ہو جایا کرتی ہیں، ان کے اردگرد قانون حائل ہو جاتے ہیں اور انسان چاہتا ہے کہ یہ میرے اور میرے عزیزوں کے لئے محفوظ رہیں اور تھوڑی بہت اپنی مرضی سے کبھی وہ اس دولت کو چھوڑ