خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 105 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 105

خطبات طاہر جلد ۲ 105 خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۸۳ء ہوگئی ہوں مگر جو میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دیا کرتی تھی میں بخشی بھی جاؤں گی یا نہیں مجھے یہ دکھ ہورہا ہے۔شدید بے قرار تھی ان کے گھر والوں نے تسلی دی، پیار کا سلوک کیا تب بڑی مشکل سے ان کو اطمینان نصیب ہوا۔پس یہ کوئی ایسی آیت نہیں جو گزشتہ زمانہ سے تعلق رکھتی ہو۔یہ تو ایک جاری وساری زندہ آیت ہے کیونکہ وہ لوگ جن کے ساتھ اس کا واسطہ تھا وہ مسلسل حسن سلوک کرتے رہے انہوں نے مخالفتیں بھی برداشت کیں، گالیاں بھی سنیں لیکن انہوں نے کوڑی کی بھی پرواہ نہیں کی ، اپنے حسن سلوک میں کوئی کمی نہیں کی اور جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے صبر کو ہمیشہ میٹھے پھل لگتے ہیں ، وہ میٹھے پھل بھی ہم نے دیکھے۔یعنی شدید مخالفت کر نیوالے لوگ اچانک جاں نثار دوست بن گئے۔غرض اس طریق پر اگر آپ داعی الی اللہ بنیں گے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر گھر میں انشاء اللہ ایک انقلاب پیدا ہونا شروع ہو جائیگا۔اللہ تعالیٰ ہر داعی الی اللہ کو میٹھے پھل عطا فرمائے گا اس لئے صبر کریں اور دعائیں کریں اور خدا کی راہ میں دکھ اٹھانے کے باوجو د راضی رہیں اور اپنی شکائتیں لوگوں سے نہ کریں بلکہ اللہ سے کریں وہ کافی ہے۔نِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ اس سے بہتر کوئی اور مولی نہیں ہے۔اس کا سہارا آپ کو مل جائے تو کسی اور سہارے کی آپ کو ضرورت نہیں ہے اور پھر وہ آپ کا بہترین وکیل ہے آپ کے سب جھگڑے وہ اپنے فضل سے طے کر وائے گا اور وہ سب سے زیادہ تو کل کے لائق ذات ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل اور توفیق سے ساری جماعت جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بہترین رنگ میں داعی الی اللہ بن جائے کیونکہ زمانہ کے کتنے تیور بگڑ چکے ہیں۔خوفناک ہلاکتیں منہ پھاڑے تیزی کے ساتھ دنیا کی طرف بڑھ رہی ہیں۔یہ وقت گزر گیا تو پھر یہ تو میں آپ کے ہاتھ سے نکل جائیں گی۔آج نفسیاتی لحاظ سے اس سے بہتر اور کوئی وقت نہیں ہے کہ آپ ان کو حق کی طرف بلائیں اور ان کے لئے امن کا انتظام کریں۔ورنہ اگر عالمی مصیبتیں ٹوٹیں تو پیشتر اس کے کہ ہم دنیا کو ہدایت دے سکیں، کہیں بدوں کے ساتھ نیک بھی پس کر نہ رہ جائیں کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس عذاب سے ڈرو جس میں بدوں کے ساتھ نیک بھی پھر پس جایا کرتے ہیں۔یہ بھی قرآن کریم کا کمال ہے کہ کوئی بھی صورت حال ہو اس کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جسے قرآن کریم بیان نہ