خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 907 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 907

خطبات طاہر جلد 17 907 خطبہ جمعہ 25 دسمبر 1998ء یعنی اقامت شروع ہو چکی ہو اور جتنی دیر اقامت لیتی ہے، صبح کی نماز کی سنتیں رسول اللہ صلی ہی تم ہمیشہ ہلکی پڑھا کرتے تھے یعنی بعینہ اس کا کوئی پیمانہ اقامت نہیں ہے۔بعض لوگ اقامت بھی جلدی پڑھتے ہیں بعض ٹھہر ٹھہر کر اقامت ادا کرتے ہیں تو یہ پیمانے چھوٹے بھی ہو سکتے ہیں ، بڑے بھی ہو سکتے ہیں مگر اتنے چھوٹے نہیں ہو سکتے کہ نمازی کو سمجھ ہی کچھ نہ آئے اور تیزی سے فرفر ٹکریں مارتی ہوئی نماز ہو جائے۔تو کسی چھوٹی اقامت کو اپنا راہنما نہ بنائیں ، بڑی اقامت کو اپنا راہنما بنالیں تو پھر مسئلہ حل ہو جائے گا۔جو روایت میں نے بیان کی تھی تراویح کا آغاز کیسے ہوا ہے۔میرے نزدیک یہ ایک امکان ہے کہ رسول اللہ صلی یتم ہی کی طرف سے تراویح کا آغاز ان معنوں میں ہوا ہو۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے روایت ہے کہ : رسول کریم صلی شمالی نام نصف شب کے قریب گھر سے مسجد تشریف لے گئے اور نوافل ادا کئے۔کچھ اور لوگوں نے بھی آپ صلی ایلم کے ساتھ نماز پڑھی۔صبح ہوئی تو لوگوں کو اس کا علم ہوا۔اگلی رات پہلے سے زیادہ لوگ اکٹھے ہو گئے۔“ یعنی تراویح کا یہ پہلو کہ امام تہجد پڑھائے یہ پہلو ہے جو میں سمجھتا ہوں رسول اللہ صلی لہ الہی تم سے ہی شروع ہوا ہے یعنی با جماعت تہجد پڑھنے کا رواج۔سہولت کی خاطر حضرت عمر نے مزدوروں وغیرہ کے لئے اس سے پہلے کر دیا، یہ الگ مسئلہ ہے لیکن با جماعت تہجد کا جہاں تک تعلق ہے اس کی سنت رسول اللہ صلی الی تم سے ہی آغاز پائی۔فرماتی ہیں نوافل ادا کئے یعنی رسول اللہ صلی یا تم نے بغیر بتائے اور بغیر تشہیر کے نماز مسجد میں جا کر ادا کرنی پسند فرمائی۔ہو سکتا ہے اس خیال سے کہ گھر والوں کو اتنی جلدی نماز کے لئے اٹھنے کی حاجت نہیں جتنی آپ صلی یا یہ ہم کو اٹھنے کی حاجت محسوس ہوتی تھی۔کچھ لوگوں نے آپ صلی یتیم کے ساتھ نماز پڑھی ، وہ شامل ہو گئے اس میں۔صبح ہوئی تو لوگوں کو اس کا علم ہوا۔اگلی رات پہلے سے زیادہ لوگ اکٹھے ہو گئے اور حضور صلی یا یہ تم کے ساتھ نوافل ادا کئے۔“ وو 66 یعنی حضور سی ایم کو گویا امام بنالیا اور باوجود اس کے کہ کوئی تکبیر نہیں تھی مگر عملاً رسول اللہ لا پیام امام تھے اور آپ کے پیچھے پیچھے ساتھ ساتھ وہ نوافل پڑھ رہے تھے۔چرچا ہونے پر تیسری رات مسجد میں بہت زیادہ لوگ اکٹھے ہو گئے۔حضور صلی سیستم تشریف لائے اور نماز پڑھائی۔(واقعۂ اب امام بن کر ، بکثرت لوگ اکٹھے ہو چکے تھے