خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 906
خطبات طاہر جلد 17 906 خطبہ جمعہ 25 دسمبر 1998ء ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ سے آنحضور صلی لا السلام کی عبادت کے بارے میں پوچھا۔فرمانے لگیں حضور صلی ہی ہم رمضان یا دوسرے مہینوں میں گیارہ سے زائد رکعات نہ پڑھتے تھے۔“ (صحیح البخاری، کتاب صلاة التراويح، باب فضل من قام رمضان ، حدیث نمبر : 2013) یہ رکعتوں کی بات بھی ہو گئی اور تراویح کی بات بھی بیچ میں آجائے گی۔گیارہ رکعتیں ہم پر فرض ہیں ان معنوں میں کہ رسول اللہ لالہ یہ تم با قاعدگی سے گیارہ ہی رکعتیں پڑھا کرتے تھے اور مولویوں نے جو بعض نے ہیں اور بعض نے پچاس یا سو یا پانچ سورکعتیں بنادی ہیں اور عجیب وغریب روایتیں مشہور کر رکھی ہیں یہ سب جاہلانہ باتیں ہیں ان کا رسول اللہ لا یہی تم سے کوئی بھی تعلق نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی گیارہ کی پابندی فرمایا کرتے تھے۔اس کی تفصیل کیا ہے میں آگے جا کر آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔حضرت عائشہ نے اس حدیث میں فرمایا ہے کہ پہلے چار رکعت ادا کرتے تھے اور پھر چار رکعت پھر تین وتر والی۔اس سے شبہ پڑتا ہے کہ چار رکعتیں اکٹھی پڑھتے تھے اور پھر چار رکعتیں اکٹھی پڑھتے تھے یہ محض شبہ ہے یہ درست نہیں کیونکہ دوسری روایت سے قطعی طور پر ثابت ہے کہ دو دو کر کے نوافل پڑھا کرتے تھے۔اس چار سے میں یہ مفہوم سمجھتا ہوں کہ ممکن ہے کہ پہلے دو دو کر کے چارنفل پڑھ کے تھوڑا سا وقفہ فرما لیتے ہوں پھر کھڑے ہو کر دو دو پڑھ کر چار نوافل پورے کرتے ہوں پھر تھوڑ اسا وقفہ پھر دورکعتیں پڑھ کر ایک رکعت زائد کر کے ساری نماز کووتر بنادیتے تھے۔مسلم کتابُ الصَّلَاةِ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ روایت ہے کہ : " آنحضرت صلی لا یہ تم رات کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھتے تھے۔(اس لئے وہ چار کا وہی مفہوم ہے جو میں نے پیش کیا ہے ) اور پھر آخر میں ایک رکعت پڑھ کر ان کو وتر بنالیتے تھے۔“ (صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب صلاة الليل مثنی۔۔حدیث نمبر :1748) صبح کی نماز سے قبل دو رکعتیں پڑھتے تھے اور اتنی ہلکی پڑھتے گویا اقامت شروع ہو چکی ہو۔“ (صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين و قصرها ، باب استجاب ركعتى سنة الفجر - - حدیث نمبر : 1676)