خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 887 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 887

خطبات طاہر جلد 17 887 خطبہ جمعہ 18 دسمبر 1998ء اکثر دفعہ ماں باپ بوڑھے ہوتے ہیں اور ان کو اولاد ہوتی ہے تو ان کی کوئی امید بظاہر اولا د سے فائدہ اٹھانے کی نہیں ہوتی لیکن باوجود اس کے پھر بھی وہ اس سے محبت اور پرورش کرتے ہیں۔یہ ایک طبعی امر ہوتا ہے۔جو محبت اس درجہ تک پہنچ جاوے اسی کا اشاره ایتاآئی ذی القربی میں کیا گیا ہے۔(اب یہ مضمون تو بسا اوقات کھولا گیا ہے اس طرح لوگ اس کو سمجھتے بھی ہیں مگر اب اگلی بات سنئے : ) اس قسم کی محبت خدا (تعالی) کے ساتھ ہونی چاہئے۔نہ مراتب کی خواہش نہ ذلت کا ڈر۔“ (البدر جلد 2 نمبر 43 صفحہ : 335 مؤرخہ 16 نومبر 1903ء) یعنی ايتاي ذي القرنی کی محبت خدا تعالیٰ سے ہونی چاہئے کیونکہ خدا سب سے زیادہ قریب ہے اور بوڑھے ماں باپ بچہ پیدا کر دیتے ہیں اور جب تک ان کو توفیق ملے اس کا خیال رکھتے ہیں، کسی بدلے کی خاطر نہیں مگر اللہ تعالیٰ نے تو ہمیں اس وقت پیدا کیا جب کہ ماں باپ کا ہی کوئی وجود نہیں تھا، کائنات کا بھی کوئی وجود نہیں تھا۔اتنے احسانات فرمائے اور فرماتا چلا جا رہا ہے کہ ہر ضرورت کے وقت ایک نئی شان کا احسان نازل فرما دیتا ہے اور وہ خزانے اتارنے لگتا ہے جو اس سے پہلے دکھائی نہیں دیا کرتے تھے۔یہ وہ مضمون ہے جس کی کوئی اتھاہ نہیں ہے۔جتنا آپ غور کریں اس سے زیادہ اس مضمون کے پیچھے اور معرفت کی باتیں دکھائی دینے لگیں گی۔اب دیکھیں دُنیا کی ترقی کتنی ہو گئی ہے لیکن اس ترقی کے نتیجہ میں کچھ اور مٹیریل کی ضرورت پیش آئی ہے۔جتنی علمی ترقی ہوئی ہے اس کے نتیجہ میں جو مشینیں ایجاد ہو رہی ہیں یا نئی سے نئی چیزیں بنی نوع انسان کے فائدے کے لئے بنائی جارہی ہیں خواہ ان سے نقصان ہی اٹھایا جا رہا ہو مگر نیت یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ چیزیں بنی نوع انسان کے فائدے کے لئے بنائی جائیں۔اس ضمن میں جو خدا تعالیٰ نے مادہ بنایا ہے اگر وہ اتنا ہی رہتا، اس میں آگے بڑھنے کی گنجائش نہ ہوتی تو انسان ترقی کے ایک مقام پر آکر رک جاتا۔اب سائنس کا جو نیا رجحان ہے وہ مٹیریل پیدا کرنے کی طرف ہے اور جتنے مادے بنے ہوئے تھے وہ بڑھتے چلے گئے انسان کو اور زیادہ معلوم ہونے شروع ہو گئے۔وہ مادے اگر انسان کو معلوم نہ ہوتے تو وہ سائنسی ترقی جو اسے علمی طور پر نصیب ہوئی تھی عملاً نصیب نہیں ہو سکتی تھی۔اب دیکھیں 109 تک انہوں نے وہ