خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 876
خطبات طاہر جلد 17 876 خطبہ جمعہ 18 دسمبر 1998ء اور جب موسیٰ نے کہا کہ اگر تم ناشکری کرو یا انکار کر دو، دونوں باتیں اس میں شامل ہیں اس کفر کے اندر، اللہ کا انکار کر دو یا اس کی نعمتوں کی ناشکری کرو۔اَنْتُم وَمَنْ فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا : تم اور وہ سب کے سب جو زمین میں بستے ہیں سارے ہی ناشکرے ہو جاؤ۔فَإِنَّ اللهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ: تو یا د رکھو کہ اللہ بہت بے نیاز اور صاحب حمد ہے۔تمام حمد اسی کو ہے اور جس کی سب حمد ہو اسی کا غنی ہونا قدرتی بات ہے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی اس کی طرف بڑی بات منسوب کرے یا حمد کا اس کا حق ادا نہ کرے، وہ اپنی ذات میں ہی حمید ہے۔ان آیات کے تعلق میں میں نے چند حدیثیں آپ کو سنانے کے لئے رکھی ہیں اور اس کے بعد حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کچھ اقتباسات ہیں اور پھر آخر پہ بعض الہامات ہیں جن کا شکر ہی سے تعلق ہے تو اسی ترتیب سے اب میں یہ امور آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ترمذی كِتَابُ الأَدَبِ بَابُ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَ نِعْمَتِهِ عَلَى عَبْدِهِ۔ترمذی كِتَابُ الأدب کی یہ روایت ہے اس باب سے کہ: اللہ تعالیٰ بہت پسند کرتا ہے اس بات کو کہ اپنی نعمت کا اثر اپنے بندوں پر دیکھے۔“ اس کا ترجمہ یہ ہے، اس پوری روایت کا جو حضرت عمرو بن شعیب سے مروی ہے رضی اللہ تعالیٰ حضرت عمر و بن شعیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی ایم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ وہ اپنے فضل اور اپنی نعمت کا اثر اپنے بندے پر دیکھے۔“ (جامع الترمذي، أبواب الأدب، باب أن الله تعالى يحب أن يرى أثر نعمته على عبده، حدیث نمبر :2819) اب اس کے کئی معانی ہو سکتے ہیں۔ان سارے معانی میں یہ حدیث اطلاق پاتی ہے۔ایک تو یہ کہ آپ مثلاً اپنے بچوں کو جب عید پر اچھے کپڑے دیں گے اگر وہ پھینک دیں اور نہ پہنیں یا اگلے سال کے لئے بچا رکھیں تو آپ کو یہ اچھا لگے گا یا جب وہ پہنیں اور سچ کر نکلیں ، وہ اچھا لگے گا !!۔ایک سادہ سی انسانی فطرت کی بات ہے انسان جو نعمت کسی کو دیتا ہے چاہتا ہے کہ اسے پھر اس پر دیکھے اور پھر پیار اور محبت کے ساتھ اس کی تعریف کرے کہ اچھے لگ رہے ہو اس نعمت کے ساتھ۔تو اللہ تعالیٰ بھی