خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 865 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 865

خطبات طاہر جلد 17 865 خطبہ جمعہ 11 دسمبر 1998ء نہیں پہنچ سکتا مگر آنے والی نسلوں کو پہنچے گا پھر وہ کھجور میں لگایا کریں گے ، اس سے اگلی نسلیں فائدہ اٹھایا کریں گی تو احسانات کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو جاری ہو جائے گا۔یہ اتنی پیاری بات لگی بادشاہ کو کہ اس نے کہاز 8 - سُبحان اللہ، کیا بات ہے۔اسی وقت وزیر نے ایک تھیلی اشرفیوں کی نکال کر اس کو پکڑا دی۔اس نے کہا بادشاہ سلامت! آپ تو کہتے تھے کہ کھجور میں نو سال کے بعد پھل لاتی ہیں میری کھجور نے تو ابھی پھل دے دیا ہے۔آپ گواہ رہیں اس کے۔بادشاہ سلامت تو نہیں اس نے کہا۔ابھی تو چھپایا ہوا تھا ، بیچ میں سے جانتا ہو گا ضرور کیونکہ بڑا ذہین بڑھا تھا۔اس نے کہا میری کھجوریں تو ابھی دیکھیں دوبارہ پھل دے دیا ہے۔یہ بات سن کر بادشاہ کے منہ سے پھر زہ نکل گیا۔اسی وقت وزیر نے ایک اور تھیلی نکالی اور اسے پکڑا دی۔اس نے کہا واہ واہ کھجور میں ایک سال میں پھل نہیں دیتیں یہاں تو ایک سال میں دو پھل دے دئے ہیں، کیسی رہی۔پھر اس کے منہ سے زنا نکلا اور وزیر نے ایک تھیلی اور پکڑا دی۔اور اس نے کہا بھا گو یہاں سے یہ بڑھا تو ہمارے خزانے لوٹ لے گا ایسا عقل والا بڑھا ہے کہ کچھ نہیں چھوڑے گا۔اب اللہ تو ایسا بادشاہ نہیں ہے جس کے خزانے لوٹے جاسکیں۔یہ ہے مضمون جس کے تعلق میں مجھے یہ روایت ہمیشہ یاد آ جاتی ہے اللہ کے خزانے تو کوئی بھی نہیں لوٹ سکتا، ختم کر ہی نہیں سکتا۔رسول اللہ صلی ہم نہیں لوٹ سکے تو اب دنیا میں اور کون لوٹ سکے گا، لوٹے مگر ختم نہیں کر سکے۔تو اس لئے میں ہندوستان والوں کو خصوصیت سے یہ پیغام دیتا ہوں اور پاکستان کے احمدیوں کو بھی یہی پیغام ہے جوشکوے شکایات ہیں تکلیفوں کے ان پر صبر کریں اور صبر کے ساتھ شکر کا مضمون یوں باندھا گیا ہے جیسے چولی دامن کا ساتھ ہو۔آپ صبر کریں، آپ کے صبر کا پھل خدا ضرور دے گا وہاں بھی دے گا اور باہر تو بے شمار پھل لگ رہا ہے اور ہم کبھی بھی نہیں بھولے اس بات کو کہ یہ خصوصیت کے ساتھ پاکستان کے مظلوموں کی قربانیاں ہیں جن کا پھل ساری دُنیا کھا رہی ہے اور اس پھل کا اب ہم فیصلہ کر چکے ہیں کہ ضرور شکر ادا کریں گے اور اس کثرت سے ادا کریں گے کہ خدا کی تقدیرلمحہ لمحہ ہمارے لئے زہ کا لفظ استعمال کرتی چلی جائے گی۔اور ہر دفعہ جب خدا کا کلام ان معنوں میں ظاہر ہو گا کہ تم نے خوب کیا میں راضی ہو گیا تو اس کی بے شمار نعمتیں بھی ہم پر اتریں گی جن کا کوئی شما ممکن نہیں ہے اور ہر نعمت کا شکر ہم پر واجب ہوتا چلا جائے گا۔جیسا کہ حضرت ابراہیم کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ وہ تمام نعمتوں کا شکر