خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 820
خطبات طاہر جلد 17 820 خطبہ جمعہ 27 نومبر 1998ء دوسری بات یہ ہے كُلُوا مِنْ طَيِّبَتِ مَا رَزَقْنَكُمْ کہ مومنوں کو تو اللہ تعالیٰ طیب رزق ہی عطا فرماتا ہے اور یہاں طیب سے مراد ہے اس میں غیر اللہ کی کوئی ملونی نہیں، کسی غیر کا کوئی احسان شامل نہیں، ایسا پاکیزہ رزق ہے کہ جسے خالصہ اللہ تعالیٰ نے مومن کو عطا فرمایا ہے اور اس کی کمائی کے پاکیزہ ہونے کی طرف از خود اس میں اشارہ موجود ہے۔اگر مومن کی کمائی پاکیزہ نہیں تو رزق کیسے پاکیزہ ہو جائے گا۔گندی کمائی کا خریدا ہو رزق خواہ بظاہر پاکیزہ ہو، دنیا کا بہترین رزق بھی ہومگر اگر گندی کمائی سے خریدا ہے تو اس کا اثر گندہ ہو جاتا ہے اور اس میں کوئی برکت باقی نہیں رہتی۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: كُلُوا مِنْ طَيِّبَتِ مَا رَزَقْنَكُم جو ہم نے تمہیں رزق عطا فرمایا ہے وہ طبیب ہے اور طبیب ہی رہنا چاہئے کیونکہ جو ہم عطا کرتے ہیں اس میں ناجائز کی ملونی نہیں ہوا کرتی۔پس جو رزق تم کماؤ لیکن بظاہر تم کمار ہے ہو اور پاک بھی ہوا گر رزق گندی کمائی سے کمایا گیا ہے تو وہ ہمارا رزق نہیں ہے پھر۔یعنی اول پیدا تو خدا ہی کرتا ہے مگر وہ رزق نہیں جو بندوں کو دینا چاہتا ہے اس لئے بندوں کی نیتوں کی یا ان کے اعمال کی ملونی سے رزق گندہ ہو جایا کرتا ہے۔وَاشْكُرُوا لِلهِ اِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ : اور اللہ ہی کا شکر ادا کر وا گر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔اللہ کا ہی شکر ادا کرو میں مضمون واضح ہے اور پہلی بات سے متعلق ہے کہ جب اللہ ہی عطا کرتا ہے اور سچا اور پاک رزق اللہ ہی دینے والا ہے تو پھر غیر اللہ کے شکر کی حاجت کوئی نہیں رہتی۔کسی محسن کے حقیقی شکر کی حاجت نہیں رہتی۔اگر کسی محسن کا شکر ادا کرنا ہے تو اللہ کے فرمان کے مطابق ادا کرنا ہے یعنی دنیا کے تقاضے بھی پورے کرنے ہیں تو محض اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ تقاضے پورے کئے جائیں مگر دلوں کا رجحان خدا ہی کی طرف رہنا چاہئے اور حقیقی شکر اسی کا ادا ہونا چاہئے کیونکہ سب کچھ عطا کرنے والا اور سب پاکیزہ چیزیں عطا کرنے والا وہی ہے۔اِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ: اگر واقعہ تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔مراد یہ ہے کہ غیر اللہ کی نفی کرتے ہو اور محض خدا کی خاطر اپنی زندگیوں کو ڈھالتے ہو، اپنی ساری طاقتیں اس کے حضور سر بسجود کر دیتے ہو تو اس صورت میں پھر غیر اللہ سے ایک قسم کا انقطاع ہو جائے گا۔تبتل کے ایک معنی یہ بھی ہیں یا تبتل کے زیادہ تفصیلی معنی اور گہرے معنی یہ بھی ہیں یعنی بیک وقت دُنیا سے علیحد گی مگر اس کے باوجود دنیا سے تعلقات اور جس رزق کا ذکر فرمایا جارہا ہے انسان کما کیسے