خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 816 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 816

خطبات طاہر جلد 17 816 خطبہ جمعہ 20 نومبر 1998ء اس طرح مجلسوں کا لطف آتا ہے۔بعض مجلسیں لگانے والے ایسے ہیں جو ساری زندگی اپنی عمر ضائع اسی طرح کرتے رہے، اٹھے اور جا کے مجلس لگالی اور رات بارہ بارہ بجے ، ایک ایک بجے واپس آئے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے یہ بھی توفیق بخشی ہے کہ میں نے کبھی ایسی مجلسیں نہیں لگائیں۔مجلسیں لگی ہوئی ہوں ان میں بیٹھ کر مجلس کا حق ادا کرنا بالکل اور بات ہے لیکن روزانہ سارا کام ختم کر کے مجلس لگانے کوئی چلا جائے مجھے تو تعجب ہوتا ہے کہ آج کل بھی جو لوگ یہ کرتے ہیں کیسے کر سکتے ہیں ان کو مزہ کیا آتا ہے۔آتا تو ہو گا ضرور لیکن اپنے بیوی بچوں سے تبتل کر لیتے ہیں، ان کے حقوق قربان کرتے ہیں۔تبتل الی اللہ کا اور مطلب ہے۔تبتل الی اللہ کا مطلب ہے اللہ کی خاطر تبتل کرنا اور اللہ کی خاطر جب انسان اپنے بیوی بچوں سے جدا ہو تو وہ گنہگار نہیں ہے، مجبور ہے۔اور پھر جب وہ واپس لوٹتا ہے پھر اس کا مزہ ہی اور ہے بالآخر اپنے گھر جب انسان پہنچتا ہے تبتل کے بعد تو ایک اور طرح کا سکون اس کو نصیب ہوا کرتا ہے۔تو ساری جماعت کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تبتل کا مضمون بیان فرمایا ہے اس کو سمجھنا چاہئے۔اپنی زندگی میں آپ نے جو نمونے دئے ہیں ان پر غور کرنا چاہئے اور یا درکھنا چاہئے کہ جو تبتل اللہ کی خاطر ہو اس میں ایک ہی لطف ہے اور جو دُنیا کی خاطر ہو اس میں بھی ایک اور ہی لطف ہے اس کا لطف ایسا ہے جو اپنے اہل و عیال کی قربانی چاہتا ہے۔قربانی نہیں کہنا چاہئے اہل وعیال کو ہلاک کرنے پر منتج ہوا کرتا ہے۔نہ انسان ان کی تربیت کر سکتا ہے نہ ان کی ذمہ داریاں ادا کر سکتا ہے نہ انہیں لطف نصیب ہو سکتا ہے اکٹھے ہونے کا اور مجلسوں میں اپنی زندگیاں ضائع کر دی جاتی ہیں۔تومبیل ہمبتل ہی ہے مگر الگ الگ نیتوں کے ساتھ سمبل ہوا کرتا ہے۔جس کی نیت میں اللہ کی طرف تبتل ہو وہ سب سے الگ ہو کر پھر بھی اپنوں کا رہتا ہے اور اللہ ان کے ملاپ کو پھر ایک غیر معمولی لذت بخشا کرتا ہے۔آنحضرت مصلی سلیم کو یہی لذت ملا کرتی تھی جب سب کاموں سے فارغ ہو کر آپ صلی ہم جدا ہو کر آخر بستر استراحت پر لیٹا کرتے تھے تو وہ لذت ہی اور ہے جو اللہ کی خاطر جدائی اور پھر اللہ کی خاطر ملنے میں آیا کرتی ہے۔تو آپ یعنی جماعت احمدیہ کو چاہئے کہ ان سارے امور میں خاص طور پر متوجہ ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے باقی اقتباسات کا میرا خیال ہے اب پڑھنے کا وقت نہیں رہا اس لئے میں اب خطبہ کو یہیں ختم کرتا ہوں۔ایک صرف چھوٹا اقتباس ہے جو میں اس باقی وقت میں پڑھ سکتا ہوں۔فرمایا: