خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 798 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 798

خطبات طاہر جلد 17 798 خطبہ جمعہ 13 نومبر 1998ء مجھے یہ پڑھتے ہوئے ہمیشہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق اللہ تعالیٰ کی تنبیہ کہ تھک نہ جائے یہ ملاقاتوں کے دوران یاد آتی ہے خصوصاً جلسہ کے بعد جو ملاقاتیں ہوتی ہیں۔اس میں لازم ہے کہ ہر ملاقاتی سے بشاشت سے ملا جائے اور ان کی توقعات کو بھی پورا کیا جائے اور جتنا ملاقاتیں تھکاتی ہیں اتنا سارا جلسہ نہیں تھکا تا۔کوئی تصنیف کا کام نہیں تھکا تا۔میں اپنے بچوں کو بعد میں کہا کرتا ہوں کہ اب میں آرام سے بیٹھا ہوں اب مجھے کھانا دو، مجھے پتا لگے کہ سکون کیا ہوتا ہے اور جن سے مل رہا ہوتا ہوں ان کی جدائی کا غم بھی ہو رہا ہوتا ہے، یہ بھی افسوس ہو رہا ہوتا ہے کہ جلدی ملاقات ختم کر رہا ہوں، یہ بھی کہیں بدخلقی ہی نہ ہو۔ان کو تسلی دیتا ہوں، ان کو بتا تا ہوں کہ بہت مجبوریاں ہیں، وقت تھوڑا ہے اس لئے آپ کو رخصت کرنا بھی میری ایک مجبوری ہے اور یہ بھی سچ ہے۔ایک عجیب سلسلہ ہے اللہ تعالیٰ کا کہ اس کی خاطر جو آپ کام کرتے ہیں ان میں بعینہ وہی مضمون جو پیاروں سے ملنے کا ہے آپ کے دل پر جاری بھی ہو جاتا ہے۔ان سے ملنے کی محبت، اس کی خوشی ، ان کی جدائی کا غم لیکن وہ بوجھ جو دل پر ساتھ ساتھ پڑ رہا ہوتا ہے یہ اللہ تعالیٰ نے پہلے سے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس کی خبر دے دی تھی اور بعینہ یہی حال حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تھا۔بے انتہا بوجھ اٹھائے ہیں، اتنا کہ ہم آج ان کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔کھانا ان کے لئے خود لے کے آنا، آنے والے سے پوچھنا، اس کو عزت سے بٹھانا اور پھر بہت لمبا عرصہ تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام گھر سے کھا نالا کر ان کو پیش کرتے رہے۔اب یہ بتائیں کہ ایک نبی سے کم کس کا حوصلہ ہو سکتا ہے۔جواللہ انقطاع اختیار کر چکا ہوصرف اس کو یہ توفیق مل سکتی ہے۔اب جو لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کے نشان ڈھونڈتے پھرتے ہیں یہ گدھے مولوی، ان کو کیا پتا کہ انقطاع ہوتا کیا ہے۔ان کو کیا پتا کہ رضائے باری تعالیٰ کے نتیجہ میں کیسے کیسے متضاد حالات سے انسان کو گزرنا پڑتا ہے اور دونوں متضاد حالات بیک وقت سچے بھی ہوتے ہیں۔یہ کیفیتیں انبیاء کی کیفیات ہیں اور دنیا کے جہلاء ان کا تصور بھی نہیں کر سکتے مگر ذرا بھی آنکھیں کھول کر دیکھیں تو ان کو یقین ہو جائے کہ یہ شخص جس کے یہ حالات ہیں یہ لازماً اللہ کا برگزیدہ نبی ہے اس کے سوا ہو ہی نہیں سکتا۔غرض کچھ بھی تو نہیں تھا اور میں صرف ایک احد من الناس تھا اور محض گمنام تھا۔“ (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 262)