خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 68 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 68

خطبات طاہر جلد 17 68 خطبہ جمعہ 23 جنوری 1998ء اب یہ راز و نیاز کی راتیں تھیں جو رسول اللہ صلی لا یہ نیم گزارا کرتے تھے اور اس راز و نیاز کا لطف کیا تھا یہ بھی اگلی حدیثوں سے ظاہر ہوتا ہے۔وہ حدیثیں غلطی سے یہاں ساتھ نہیں رہیں لیکن زبانی میرے ذہن میں جو مضمون ہے وہ یہ ہے کہ آنحضرت مصلی یا ایلیمن جو اپنے رب سے راز و نیاز کیا کرتے تھے تو دُنیا کےسارے دوسرے پر دے اٹھ جایا کرتے تھے اور آپ صل للہ یہ تم ایسے غرق ہوتے تھے ذکر الہی میں اور اس سے ایسی لذت پاتے تھے کہ اس لذت کا بیان ممکن نہیں ہے۔وہ حدیثیں اس وقت یہاں نہیں ہیں جو میرے ذہن میں ہیں جن کی وجہ سے میں بتا رہا تھا کہ یہ جو فرمایا کہ ایک شخص راز و نیاز میں مصروف ہے اس کے راز و نیاز میں حائل نہ ہو وہ راز و نیاز ایسا تھا کہ اس کے لطف کا کوئی بیان ممکن نہیں ہے۔آنحضرت مسی یا تم کو اللہ کے ذکر میں اتنا زیادہ مزہ آتا تھا کہ اس مزہ کی کیفیت دوسرے الفاظ میں بیان ہو نہیں سکتی۔عام انسان جب ذکر الہی میں لذت پاتا ہے تو بعض دفعہ خود اپنی کیفیت کو دوسرے کے سامنے بیان نہیں کر سکتا۔آنحضرت صلی للہ یہ تم کو اللہ سے عشق اور محبت میں جو خلا میسر آیا کرتا تھا وہ کیفیت جیسا کہ میں نے پہلے عرض کر دیا تھا ناممکن ہے کہ میں بیان کرسکوں، کوئی انسان اسے بیان نہیں کرسکتا۔ان کیفیات پر رسول اللہ صل للہ یہ تم کی بعض اور حدیثیں روشنی ڈالتی ہیں مگر اتنا بہر حال یقینی ہے کہ رمضان کی راتوں کے اواخر اور آخری عشرہ میں معتکفین کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے دوسرے ساتھیوں کا خیال رکھیں کیونکہ وہ جس بات میں مخل ہوں گے وہ اللہ اور بندہ کے راز و نیاز کی باتیں ہیں اور ایسی راز و نیاز کی باتیں ہیں جن کو وہ خود نہیں کھولنا چاہتا۔اب ظاہر بات ہے کہ یہ واقعہ نہ ہوتا تو رسول اللہ صلی ا یہ تم یہ نہ کہتے کہ میں تو اللہ سے راز و نیاز میں مصروف ہوں۔وہ راز و نیاز کی کیفیت ایسی ہے جو بیان سے باہر ہے۔جن حدیثوں سے ان پر روشنی پڑتی ہے یوں معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ لیا کہ یتم ایک اور لافانی لذت میں ڈوب جاتے تھے، ایسا اس لذت میں غرق ہو جاتے تھے کہ اس سے باہر آنے کو دل نہیں چاہتا تھا۔یہی دل چاہتا تھا کہ ہمیشہ کے لئے اس لذت میں ڈوب جاؤں۔فی الرفيق الاعلی کے متعلق جو آپ نے روایت سنی ہے کہ آخری وقت میں في الرفيق الأعلی کہا کرتے تھے۔(صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب مرض النبی ﷺ و وفاته،حدیث نمبر : 4436) یہ مراد نہیں ہے کہ آخرت میں وہ رفیق نصیب ہونا تھا۔وہ رفیق جو ہمیشہ ان راتوں میں محمد رسول اللہ صلی ہی تم پر ظاہر ہوا