خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 67 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 67

خطبات طاہر جلد 17 67 خطبہ جمعہ 23 جنوری 1998ء نہیں تھے۔ان کی عام عبادتیں رسول اللہ لا یا یہ تم کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی تھیں اور رسول اللہ ایشیا کی ستم کے تخلیہ کی حالت ان پر ظاہر نہیں ہوتی تھی۔تو وہ مسجد نبوی چونکہ بہت بڑی تھی اس لئے اصل اعتکاف کا حق بڑی مسجد میں ادا ہوتا ہے۔ایسی مسجد میں جہاں چند عبادت کرنے والے ایک دوسرے سے الگ الگ ہوں ، ایک دوسرے کے معاملات میں مخل نہ ہوں اور اصل عبادت کا تو وہی مزہ ہے جو ایسے اعتکاف میں کی جائے مگر ہمارے ہاں بھرنے پر زور ہے۔اس لئے اس دفعہ خواتین میں خصوصیت سے جن خواتین کے متعلق کسی حکمت کی وجہ سے ہم نے سمجھا کہ ان کو یہاں نہیں بیٹھنا چاہئے ،مسجد میں گنجائش ہونے کے باوجود اُن کو جگہ نہیں دی گئی۔یہ عین سنت نبوی سلی لا یتیم کے مطابق ہے کہ یہ نہیں تھا کہ اگر صحابہ چاہتے تو ساری مسجد معتکفین سے بھر سکتے تھے مگر ایسا نہیں کیا گیا اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ اجازت کا کیا نظام جاری تھا مگر کچھ نہ کچھ ضرور نظام جاری ہو گا جس کے تابع بعض لوگوں کو تو فیق ملتی تھی اور بعضوں کو نہیں ملتی تھی۔کھجوروں کا ایک حجرہ سا بنایا گیا، ایک جھونپڑی بنائی گئی۔ایک رات ایسی آئی آپ صلی اللہ کریم نے باہر جھانکتے ہوئے فرمایا نمازی اپنے رب سے راز و نیاز میں مگن ہوتا ہے اس لئے ضروری ہے قرآت بالجہر اس طرح نہ کیا کرو کہ گویا دوسرے بھی سن سکیں۔(مسند احمد بن حنبل، مسند عبداللہ بن عمر الله ، حدیث نمبر : 5349) رض تو یہ فرض ہے ہر حجرے والے کا جو اعتکاف بیٹھتا ہے کہ اس کے اندر کی آواز میں باہر نہ جائیں یہاں تک کہ تلاوت بھی باہر نہ جائے۔حالانکہ تلاوت تو کسی عبادت کرنے والے کی راہ میں حائل نہیں ہونی چاہئے کیونکہ عبادت اور تلاوت در حقیقت ایک ہی چیز کے دو نام ہیں مگر رسول اللہ صلی ا ہم نے فرما یا ایسی آواز میں تلاوت کی آواز بھی باہر نہ جائے کہ دوسرے معتکفین کی راہ میں حائل ہو کیوں ایسا فرمایا۔ایک راوی بیاضی ہیں جن سے مسند احمد بن حنبل میں یہ روایت مروی ہے اور بیاضی بیاضہ بن عامر کی طرف نسبت تھی ، ان کا اصل نام عبد اللہ بن جابر تھا رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ان کی روایت ہے کہ اپنے حجرہ سے باہر دوسروں کی طرف نکل کے آئے یعنی چل کر باہر گئے ہیں۔صاف پتا چلتا ہے کہ فاصلہ ہے بیچ میں جو نماز ادا کر رہے تھے ان کی قرآت کی آوازیں بلند تھیں۔آنحضرت مصلی سیستم نے فرمایا کہ نمازی تو اپنے رب ذوالجلال سے راز و نیاز میں مگن ہوتا ہے۔(مسند احمد بن حنبل، مسند المكثرين من الصحابة حديث البیاضی ،حدیث نمبر : 19022)