خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 786 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 786

خطبات طاہر جلد 17 786 خطبہ جمعہ 13 نومبر 1998ء شجاعت بھی آجاتی ہے اس لئے مومن کبھی بزدل نہیں ہوتا۔اہلِ دُنیا بزدل ہوتے ہیں ان میں حقیقی شجاعت نہیں ہوتی ہے۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ: 317 / الحکم جلد 9 نمبر 28 صفحہ:2 مؤرخہ 10اگست 1905ء) اب یہ مضمون اسی تعبیل سے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نکالا ہے اور عام طور پر اس تبتل کے تعلق میں آپ کو یہ مضمون کہیں اور سنائی نہیں دے گا، کہیں اور آپ اس کو نہیں پڑھیں گے۔صرف یہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں جنہوں نے ایسا شاندار طبعی نتیجہ نکالا ہے تبتل کا۔غار حرا میں اب بھی جو جانے والے جاتے ہیں اور جھانک کے دیکھتے ہیں ان کو ڈرلگتا ہے۔وہ ایسی جگہ ہے اول تو اس کا چڑھنا مصیبت اور پھرا کیلے سفر کرنا اور غار میں جا کے بیٹھے رہنا آج کل بھی جو کمزور دل والے ہیں ان کو ڈر لگتا ہے۔آنحضرت سلیم کا کئی کئی دن وہاں جا کر ٹھہر جانا یہ آپ کی شجاعت کی علامت ہے۔آپ مصلی یہ تم بہت بہادر تھے۔پس وہ لوگ جو اندھیروں سے ڈرتے ہیں اور جنوں بھوتوں کا خوف کھاتے ہیں ان کے لئے یہ اسوہ رسول ایک بہت بڑی علامت ہے اس بات کی کہ خدا والے خوفزدہ نہیں ہوا کرتے۔جب غیر اللہ کا تصور ہی اٹھ گیا ہو تو نقصان کس نے پہنچانا ہے۔یہ مضمون ہے جو شجاعت اور توکل کے ساتھ جڑواں بھائیوں کی طرح ہے۔دیکھیں جتنا خدا پر اعتماد بڑھے گا جتنا یقین ہوگا اتنا ہی زیادہ غیر اللہ کا خوف اٹھتا جائے گا اور اگر نہیں اٹھے گا تو مومن کا کام ہے کہ ضرور اس کو توڑے اور اس کو رڈ کرے۔یہ میں نے اپنا تجربہ بھی ایک دفعہ بیان کیا تھا، شاید بھول گئے ہوں کچھ لوگ کسی ضمن میں میں نے بیان کیا تھا ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت ابا جان اور سارے پہاڑ پر گئے ہوئے تھے اور میں اپنے گھر کے صحن میں اکیلا سویا کرتا تھا اور بعض دفعہ سوتے ہوئے ڈر لگتا تھا کیونکہ کہانیاں بھی عجیب و غریب مشہور تھیں کہ ایک جن آیا کرتا ہے کوئی نالے پر اندے بیلنے والی عورت ہے جو چھت پر سے چھلانگ لگا کے آیا کرتی ہے۔اس قسم کی کہانیاں پرانے زمانے سے چلی آ رہی تھیں اس گھر کے متعلق۔تو ایک دفعہ اچانک مجھے خیال آیا کہ یہ تو شرک ہے۔اگر کوئی بلا ، کوئی جن نقصان پہنچا سکتا ہے اللہ کے اذن کے بغیر تو یہ بھی تو ایک شرک کی قسم ہے۔تو میں کیوں ڈر رہا ہوں، مجھے کیوں نیند نہیں آرہی اس لئے میں نے مقابلہ کرنا ہے اب اس کا اور اپنے آپ پر سختی کر کے بھی مقابلہ کرنا ہے تا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا