خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 781 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 781

خطبات طاہر جلد 17 781 خطبہ جمعہ 13 نومبر 1998ء قربت الہی آنحضرت سلی یا پریتم کی پیروی سے وابستہ ہے عادت اللہ ہے جو کچھ بننے کی آرزو کرتے ہیں وہ محروم رہتے ہیں اور جو چھپنا چاہتے ہیں انہیں باہر نکال کر سب کچھ بنا دیتا ہے (خطبہ جمعہ فرموده 13 نومبر 1998ء بمقام بيت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج آیت کریمہ تلاوت کی : واذكر اسم رَبَّكَ وَتَبَتَّلُ إِلَيْهِ تَبْتِيلًاه پھر فرمایا: (المزمل: 9) یہ آیت جس کی میں نے آج تلاوت کی ہے جیسا کہ اس کے مضمون سے صاف ظاہر ہے یہ اللہ کی یاد میں دُنیا سے اپنے کو جدا کرنے کی تلقین ہے۔متبتل کا مطلب یہ ہے کہ ایسے جدا ہو جائے کہ گویا دُنیا سے کٹ گیا ہے اور خالصہ اللہ ہی کے لئے ہو گیا ہے۔یہاں تبتل کا یہ معنی نہیں کہ دُنیا سے ہر قسم کے تعلقات کاٹ لے مگر ایسے تعلقات رکھے کہ تعلقات کے رہتے ہوئے بھی بظاہر یعنی تعلقات ظاہری طور پر رہیں لیکن دل ہمیشہ مائل بحد ا ر ہے۔یہ معنی ہے تبتل کا جو دراصل نبوت کے آغاز سے پہلے شروع ہوجاتا ہے اور اس مضمون کو میں بعض احادیث نبویہ کی روشنی میں آغاز ہی میں کھولوں گا۔یہ خیال کہ نبی ، نبی بننے کے بعد قتل کرتا ہے یہ درست نہیں۔تبتل کے نتیجہ میں نبی بنتا ہے۔یہ ایک نمایاں فرق ہے جو پیش نظر رہنا چاہئے اور ہر بڑا درجہ خواہ نبوت کا نہ بھی ہو صالحیت کا ہی ہو وہ