خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 760 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 760

خطبات طاہر جلد 17 760 خطبہ جمعہ 30اکتوبر 1998ء تربیت کا سلسلہ ہے یہ اسی طرح رفتہ رفتہ آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔پس جب ہم خواتین کی بات کرتے ہیں تو جو میرا مقصد ہے اس کو وہیں تک محدود نہ رکھیں۔میرے نزدیک احمدی خواتین ہوں یا احمدی مرد ہوں دونوں کا زیور حیا ہے اور یہی ہے جو آنحضرت صلی شما یہ تم نے بیان فرمایا ہے۔بعض مرد سمجھتے ہیں کہ صرف عورت کو ہی حیا کھنی چاہئے۔جو بے حیا مرد ہوں ان کی عورتوں کی بھی حیا پھر زیادہ دیر تک مخفی نہیں رہا کرتی۔رفتہ رفتہ وہ حیا ئمیں بھی اٹھ جاتی ہیں۔تو اگر آپ نے اپنے گھروں کو جنت بنانا ہے تو یا درکھیں اگر مرد حیادار ہوگا تو بیوی حیادار رہے گی اور اگر وہ حیادار ہے اور مرد بے حیا ہے تو بعید نہیں کہ وہ علیحدگی کر کے بھاگ جائے وہاں سے ، وہ برداشت ہی نہ کر سکے کہ اس کے حیا پر روز حملے ہوتے ہوں اور رفتہ رفتہ اس کا دین تباہ ہورہا ہو۔تو ایسی عورتیں ہیں جنہوں نے محض حیا داری کی وجہ سے طلاقیں لی ہیں اور یہ طلاق بالکل جائز ہے، بالکل درست ہے کافی وجہ ہے یہ کہ اس کی بناء پر قاضی طلاق کے حق میں فیصلہ دے۔تو مومن اگر حیادار ہے تو اس کی بیوی بھی حیادار رہے گی۔ہمارے لڑکے حیادار ہوں تو پھر لڑکیاں بھی حیادار ہوتی ہیں۔جس گھر میں لڑکیاں دیکھتی ہیں کہ لڑکوں کو تو بے حیائی کی کھلی چھٹی ہے اور لڑکیوں پر ہی پابندی ہے تو بچیاں دل میں اس بات کو دبا لیتی ہیں ، جب تک ان کو قانون اجازت نہ دے کہ بے شک ماں باپ کے سامنے آنکھیں اٹھاؤ اور بے حیائی کے ساتھ ان سے باتیں کرو اس وقت تک جب تک قانون ان کی بے حیائی کی حفاظت نہیں کرتا وہ بظاہر حیا دار دکھائی دے رہی ہوتی ہیں لیکن عجیب ماں باپ ہیں کہ ان کو پتا ہے کہ بچے بے حیائی کی طرف مائل رہتے ہیں ان کا وہ بالکل خیال نہیں کرتے اور ان سے بے اعتنائی ہے، ان کی بے حیائیوں سے بے اعتنائی ہے جو آگے بچیوں کو بھی بے حیا بنا دیتی ہے۔پس ہر احمدی گھر سے اس مضمون کے آخر پر میں اس توقع کا ذکر کرتا ہوں کہ اگر آپ غیب میں اللہ کی حیا رکھ لیں اور اس کے غیب ہوتے ہوئے بھی اس طرح نظر ڈالیں جیسے وہ ہمیشہ آپ کو دیکھ رہا ہے تو یہ ایک رستہ ہے خدا سے حیا کا جو آپ کو لازماً اس جنت میں داخل کر دے گا جس کے متعلق رسول اللہ صلی ایم نے فرمایا کہ ایمان جنت ہے، ایمان جنت میں بستا ہے۔تمام طمانیت اسی سے ہے۔ہر دکھ کا ازالہ اس بات میں ہے۔تمام خطرات سے آپ کو یہ چیز بچائے گی آپ کا گھر وہ جنت بن جائے گا جس کے متعلق وعدہ کیا گیا ہے کہ ایمان جنت میں ہے۔اس گھر میں جن کو وہ جنت دکھائی