خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 61
خطبات طاہر جلد 17 61 خطبہ جمعہ 23 جنوری 1998ء کر آئیں تو آپ مایا یہ تم کو اس حال میں پائیں، یہ ناممکن ہے لیکن اجود کا وہ معنی جو اعلیٰ درجہ کی لغات امام راغب وغیرہ سے ثابت ہے اور خیر کا وہ معنی جو اعلیٰ درجہ کی لغات سے ثابت ہے وہ کچھ اور مفہوم بھی اپنے اندر رکھتا ہے۔اجود اس شخص کو کہیں گے جو نیکیوں میں سب سے آگے بڑھ جائے اور خیر حسنہ کو کہتے ہیں صرف مال کو نہیں کہتے۔ہر بھلی بات جس کی مومن توقع رکھتا ہے اور خدا سے دعا کرتا ہے کہ یہ بھلائی مجھے نصیب ہوا سے خیر کہا جاتا ہے۔پس ان معنوں میں جب اس حدیث کو آپ دوبارہ پڑھیں تو بالکل ایک اور مضمون ، ایک نیا جہان آپ کی آنکھوں کے سامنے ابھرے گا۔آنحضرت صلی الہی تم کو جب بھی جبرائیل نے دیکھا ہے رات کو آپ صلی می ایستمان نیکیوں میں غیر معمولی آگے بڑھنے والے تھے تمام کائنات کے وجودوں سے آگے بڑھنے والے تھے جن نیکیوں میں دوسرے لوگ ان میدانوں میں سفر کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔رات کو اپنے خدا کی یاد میں غرق ہونے میں سب سے زیادہ تھے۔رات کے وقت اجود تھے ان معنوں میں کہ ذکر الہی میں اپنے آپ کو گم کر دیا اور خیر کے جتنے بھی اعلیٰ پہلو ہیں مال کے علاوہ، ان سارے پہلوؤں میں محمد رسول اللہ صلی ایام میں ایسی تیزی آئی ہوئی تھی جیسے جھکڑ چل رہا ہو۔یہ حقیقی معنی ہیں اور لغت سے میں نے اچھی طرح دیکھ لئے ہیں۔یہ موقع نہیں کہ لغت کی تفصیل میں جایا جائے لیکن آپ یقین کریں کہ ہر پہلو سے چھان بین کے بعد میں آپ کو مطلع کر رہا ہوں کہ ان معنوں میں جبرائیل نے حضرت محمد مصطفی صلی یہ یمن کو جب بھی دیکھا اس حال میں دیکھا ہے۔ہر نیکی میں اتنی تیزی آئی ہوئی ہوتی تھی کہ جیسے جھکڑ چل رہا ہو اور یہ تیزی ذکر الہی کی تیزی تھی خدا کی ذات میں ڈوب جانے کی تیزی تھی۔پس اس پہلو سے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی ا یتیم کی پیروی کر کے دیکھ لیں تو پھر اندازہ ہوگا کہ کتنی مشکل مگر کتنی لازمی پیروی ہے۔مشکل تو ہے کیونکہ یہ سفر بہت طویل ہے۔ایک عام انسان کے لئے اس سفر کی آخری منازل کے لئے تصور بھی ممکن نہیں ہے لیکن یہ چند دن تو ہیں۔ان دنوں میں اللہ خود قریب آجاتا ہے۔یہ وہ دن ہیں جن میں رسول اللہ صلی السلام کی پیروی آسان کر دی جاتی ہے۔پس ان دنوں سے فائدہ اٹھا ئیں اور ان دنوں کا حقیقی معنوں میں استقبال کریں۔ان کو وداع کرنے کے لئے نہ رمضان کا وقت گزاریں بلکہ ان کے استقبال کے لئے اپنے باز و دراز کر دیں، اپنے سینہ کے