خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 60 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 60

خطبات طاہر جلد 17 60 خطبہ جمعہ 23 جنوری 1998ء میں کس دُنیا میں پہنچا ہوا تھا، میں کس دُنیا میں بسر کرتا رہا ہوں وہ احادیث بھی ابھی میں آپ کے سامنے کھول کر بیان کرتا ہوں۔ایک روایت وہ ہے جس کے متعلق ہماری کتب میں اور بالعموم روایتاً جو معنی بیان کئے جاتے ہیں وہ میرے نزدیک درست نہیں ہیں وہ واقعہ اپنی ذات میں تو درست ہے کہ ایسا ہوا کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی ایتم رمضان میں پہلے سے زیادہ صدقہ و خیرات کیا کرتے تھے۔اس میں کوئی شک نہیں مگر جو روایت میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں اس کے ترجمہ کو محدود کر دیا گیا ہے اور وہ ترجمہ اس سے بلند اور وسیع تر ہے جو عام طور پر آپ کے سامنے رکھا جاتا ہے۔وہ روایت یہ ہے: عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ، وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِيْنَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ، وَكَانَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ يَلْقَاهُ كُلَّ لَيْلَةٍ فِي رَمَضَانَ حَتَّى يَنْسَلِخَ يَعْرِضُ عَلَيْهِ النَّبِيُّ ﷺ القُرْآنَ فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ أَجْوَدَ بِالخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلة “ (صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب أجود ما كان النبي يكون في رمضان ،حدیث نمبر : 1902) یہ جو آخری حصہ ہے اس میں وہ معنی پوشیدہ ہیں جو میں بیان کرنا چاہتا ہوں اور جو عموماً تر جموں میں دکھائی نہیں دے سکتے۔اس حدیث سے اجود کا معنی یہ لیا گیا ہے کہ وہ بہت زیادہ سخی غریبوں پر خرچ کرنے میں اور خیر کا معنی یہ لیا گیا ہے دُنیا کا مال اور کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی ایتم رمضان کے دنوں میں اتنا زیادہ خرچ کیا کرتے تھے جیسے تیز ہوا میں اور بھی تیزی آجائے اور وہ ہوا جھکڑ میں تبدیل ہو جائے۔یہ معنی دل پسند معنی ہیں، اچھے معنی ہیں مگر اس روایت میں اس موقع پر یہ معنی مناسب نہیں بلکہ اس کے کچھ اور معنی بنتے ہیں۔جبرائیل ہر رات کو اترا کرتے تھے رسول اللہ اللہ تم کو تنہا پاتے تھے اس وقت اس روایت کا یہ معنی لینا کہ جبرائیل ایسی حالت میں ملتے تھے کہ آپ سخاوت میں اور لوگوں میں خرچ کرنے میں بہت تیزی دکھایا کرتے تھے وہ وقت ہی ایسا نہیں ہے جس میں باہر نکل کر غریبوں کو ڈھونڈا جائے اور ان پر کثرت سے خرچ کیا جائے۔راتیں تو آنحضرت ملائیشیا کی ستم اور خدا کے درمیان کی راتیں تھیں۔ان راتوں میں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جبرائیل جب قرآن کریم لے