خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 690
خطبات طاہر جلد 17 690 خطبہ جمعہ 2اکتوبر 1998ء پر آیا وہاں وہ بات ختم ہو جاتی ہے۔تو یہ صحابہ جنہوں نے قربانیاں دی ہیں ان کے ہونٹوں پر تو کوئی مطالبہ نہیں آیا، کبھی اپنی قربانی کے نتیجہ میں کچھ طلب نہیں کیا بلکہ ایسی قربانیاں تھیں کہ جان دی تو جان دینے تک وفا کی اور اس کے بعد طلب کس سے کرنی تھی یعنی انسانوں اور بندوں سے کسی قسم کی طلب کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں یہ جو صورت حال ہے اسی بناء پر یہ عاجز اس سلسلہ کے قائم رکھنے کے لئے مامور کیا گیا ہے۔اب دیکھیں ” قائم کرنے کے لئے“ کا لفظ نہیں ہے ” قائم رکھنے کے لئے مامور کیا گیا ہے۔اب غور کر کے دیکھیں قائم کرنا زبان پر سب سے پہلے آتا ہے، از خود زبان پر یہ جاری ہوتا ہے کہ سلسلہ قائم کیا گیا مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظر وقتی نظر نہیں ” قائم رکھنے کے لئے مامور کیا گیا ہے اور اس سلسلہ کا قائم رکھنا قربانیوں کے ساتھ وابستہ ہے۔قائم کرناوابستہ نہیں، قائم رکھنا وابستہ ہے۔یہ سلسلہ قائم نہیں رہ سکتا جب تک خدا کی راہ میں وہ قربانیاں پیش نہ کی جائیں جو قربانی دینے والوں کو بھی ازلی زندگی عطا کر دیتی ہیں اور اس جماعت کو بھی ازلی زندگی عطا کر دیتی ہیں جس جماعت کے وہ رکن ہوں۔تو یہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریروں کو غور سے پڑھنا اور ان کے مطالب کو اخذ کرنا انتہائی ضروری ہے۔اس سلسلہ کے قائم رکھنے کے لئے مامور کیا گیا ہے اور چاہتا ہے کہ صحبت میں رہنے 66 والوں کا سلسلہ اور بھی زیادہ وسعت سے بڑھا دیا جائے۔“ اب لفظ صحبت میں میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا کہ اس صحبت سے مراد یہ نہیں ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وفات پاگئے تو آپ کی صحبت نصیب نہ رہی۔آنحضور صلی ال ایام کو وفات پائے چودہ سوسال سے زیادہ عرصہ گزر گیا لیکن صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا“ کا اعلان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیسے کر دیا۔تو ایک صحبت جاریہ ہے، ایسی صحبت ہے جو ہمیشہ رہے گی۔وہ اخلاق اور اعمال اور ایمان اور اقدار کی صحبت ہے۔آنحضرت ملا یہ تم کی مہر بند نہیں ہوئی ، وہ قیامت تک جاری ہے اور ان معنوں میں جاری ہے کہ جس شخص نے بھی اپنے دل پر وہ نقوش لئے جو رسول اللہ صلی لای یتم کی مہر سے لگتے ہیں تو گویا وہ آپ صلی ایتم کی صحبت میں داخل ہو گیا۔