خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 684
خطبات طاہر جلد 17 684 خطبہ جمعہ 2اکتوبر 1998ء نتیجہ میں بہت سے دشمنوں کو زک اٹھانی پڑی ہے اور اس غصہ میں جیسا کہ عربوں میں دستور تھا وہ چہرہ بگاڑ دیا کرتے تھے یعنی نعش کا چہرہ بگاڑ دیا کرتے تھے تو وہ پہچانے نہیں جاسکتے تھے۔پھر ایسے حال میں جبکہ رسول اللہ صلی ایم نے حضرت انس کو بھیجا کہ جاؤ تلاش کرو وہ کہاں ہیں۔ان کی بہن ساتھ تھیں انہوں نے پہچانا اور انگلیوں کے پورے سے پہچانا۔ان کی اُنگلی پر کوئی نشان تھا جو کٹی ہوئی ، زخمی اُنگلی ، جو نشان دکھائی دے رہا تھا۔چنانچہ روایت کرنے والے بیان کرتے ہیں کہ : ”ہم سمجھتے ہیں یہ آیت اسی قسم کے لوگوں کے حق میں نازل ہوئی کہ مومنوں میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا اسے پورا کر دکھایا۔(مِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ ) اور وہ اپنے اس عہد میں سچے نکلے۔“ (صحیح البخاري، كتاب الجهاد و السير باب قول الله عز وجل من المومنين رجال ، حدیث نمبر : 2805) حضرت قیس بن ابوحازم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ: میں نے طلحہ کا وہ ہاتھ دیکھا ہے جس سے آپ نبی کریم صلی یا پریتم کا چہرہ تیروں سے بچارہے تھے ، اپنے ہاتھ پر تیر لے رہے تھے۔“ (صحیح البخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی ﷺ، باب ذکر طلحة بن عبید اللہ ،حدیث نمبر : 3724) ہاتھ پر معمولی سا بھی کانٹا چبھ جائے تو انسان کا ہاتھ پیچھے ہٹ جاتا ہے، سوئی چبھوئی جائے تو اور بھی زیادہ خنجر لگے تو اندازہ کریں کہ کتنی بے اختیاری میں انسان کا ہاتھ از خود پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ناممکن ہے کہ ایک غیر معمولی عزم کے سوا انسان کو توفیق ہو کہ وہ ہاتھ اسی طرح سامنے رکھے۔حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی شمالی یتیم کے چہرے کے سامنے یوں ہاتھ رکھا۔جو بھی تیر اس طرف آتا تھا اپنے ہاتھ سے روکتے تھے۔اس وقت تو آپ کو تو فیق مل گئی کہ اس کو کھڑارکھا پھر اس کے بعد ہمیشہ کے لئے وہ ہاتھ گنجا ہو گیا، ساتھ لٹکائے پھرتے تھے۔اب وہ خدا جو چھوٹے چھوٹے زخموں کے نشان پر بھی پیار کی نظر ڈالتا ہے ، جو اپنی عبادت کے وقت پڑنے والے گھوں پر بھی پیار کی نظر ڈالتا ہے، اندازہ کریں کہ حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس ہاتھ کو کس پیار سے دیکھتا ہوگا۔خدا کی قسم ! دُنیا میں کوئی لنجا ایسا نہیں جس کے ہاتھ پر خدا کے پیار کی نظریں اس طرح پڑتی ہوں جس طرح طلحہ کے ہاتھ پر پڑتی رہیں۔