خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 683 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 683

خطبات طاہر جلد 17 683 خطبہ جمعہ 2اکتوبر 1998ء ” جب اُحد کی لڑائی ہوئی تو ایک موقع ایسا آیا کہ مسلمان بکھر گئے۔“ اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے آپ لوگ بار ہاسن چکے ہیں جب جنگ نے پانسا پلٹا اور تھوڑی دیر کے لئے مسلمان بکھر گئے اس وقت کی بات ہے۔اس پر انس نے کہا، یہ انس بن مالک کی روایت ہے مگر ان کے چچا کا نام بھی انس تھا، تو اس نے کہا سے مراد ہے کہ انس بن نضر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جن کی قربانی کا واقعہ ہے انہوں نے کہا: ”اے میرے اللہ ! میں تیرے حضور ان لوگوں کے لئے معذرت چاہتا ہوں۔“ عجیب پیارا کلام ہے۔وہ صحابہ جو بکھر گئے تھے آپ جانتے تھے کہ جان کے نہیں بکھرے مجبور و بے اختیار ہو گئے ہیں۔تو اللہ کے حضور کہتے ہیں میں معذرت چاہتا ہوں اور معذرت پیش کرنے والے کے اوپر سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی بہادری اور اپنی قربانی کے ذریعے ثابت کر دے کہ جو مجبور نہ ہوئے ہوں جن کو یہ اختیار ہو اپنے اوپر کہ میدان جنگ میں اپنی جان جھونک دیں وہ یہ کیا کرتے ہیں تو گویا آپ نے صحابہ کو اپنی قربانی میں شامل کر لیا۔میں اس معذرت کے کلام کو یوں سمجھتا ہوں کہ اس معذرت کے ساتھ پھر آپ نے جو جانی قربانی پیش کی ہے وہ اس معذرت کے قبول کرنے میں مددگار ہوگی اور ساتھ یہ کہا کہ : میں دشمنوں کے ظالمانہ سلوک سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں۔پھر وہ آگے بڑھے تو ان کو سعد بن معاذ ملے۔انس بن نضر نے ان سے کہا اے سعد! دیکھو جنت قریب ہے۔رب کعبہ کی قسم! مجھے احد کے اُدھر سے اس کی خوشبو آ رہی ہے۔“ سعد نے اسی جنگ اُحد کے دوران جب شہداء بکھرے پڑے تھے اور ان کی تلاش ہو رہی تھی۔یہ واقعہ آنحضرت صلی سیستم کی خدمت میں پیش کیا کہ اس طرح میرے چا مجھے ملے تھے پھر وہ دشمن پر حملہ کرتے ہوئے اسی ریلے میں کہیں غائب ہو گئے ، پھر ان کا پتا نہیں چلا۔”حضرت انس (جو اس واقعہ کے راوی ہیں) کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے چانس کو ایسی حالت میں شہید پایا کہ اسی سے کچھ اوپر تلوار، نیزے یا تیر کے زخم آئے تھے۔مشرکین 66 نے ان کی شکل بگاڑ دی تھی۔“ کوئی اس نعش کو پہچان نہیں سکتا جسے اتنے زخم آئے ہوں اندازہ کریں کہ وہ آخر وقت تک جب تک دم میں دم تھا لڑتے رہے اور ان کی بہادری کی وجہ سے، ان کے غیر معمولی جرات کے ساتھ حملے کے