خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 56 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 56

خطبات طاہر جلد 17 56 خطبہ جمعہ 23 جنوری 1998ء نہ نیک باتیں سننے کا موقع میسر آتا ہے، نہ نیک صحبتوں میں بیٹھنا پسند کرتے ہیں۔ان کے اپنے ہی ہمجولی ہیں، انہی میں پھرتے ہیں، ان میں وہ ایک آزادی محسوس کرتے ہیں اور ان کے اوپر ان لوگوں میں بیٹھنے سے کسی قسم کا دباؤ نہیں پڑتا جو نیکی کی طرف بلانے والے ہوں۔پس وہ ان کی طرف بہتے ہیں اور بہتے چلے جاتے ہیں اور یہ ایک جمعہ ہے جس میں ان کی فطرت نے ان کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ یہاں نیکی کی خاطر آئیں اور نیک لوگوں میں بیٹھیں۔پس ان کا ایک ہی سہارا ہے کہ یہ جمعہ آخر گز رہی جائے گا نا ، وداع کا جمعہ ہے جسے ہم نے رخصت کرنا ہے۔جس طرح بچے ٹاٹا کہتے ہیں تو یہ لوگ ٹاٹا“ کرنے آئے ہیں اور ان کو پکڑنے کا میں انتظار کر رہا تھا اس لئے میرے لئے استقبال ہے۔میں ان لوگوں کا استقبال کرتا ہوں اور اس پہلو سے یہ جمعہ میرے لئے جمعہ استقبالیہ ہے۔میں ان کا استقبال کرتا ہوں، سارا سال اس انتظار میں رہتا ہوں کہ یہ آئیں اور کچھ تو نیکی کی باتیں ان کے کانوں میں پڑیں، کچھ تو آنکھیں کھلیں۔یہ تضاد ہے ان دو باتوں میں کہ ایک پہلو سے یہ وداع ہے اور ایک پہلو سے استقبال ہے لیکن حقیقت میں تضاد کوئی نہیں ، زاویہ نگاہ کا فرق ہے۔بہت سے احمدی ایسے نظر آتے ہیں جن کا پہلے نظام جماعت کو علم ہی کوئی نہیں ہوتا کہ وہ احمدی تھے بھی ، بہت سے ایسے احمدی دکھائی دیتے ہیں جن کا علم تو ہے لیکن وہ مساجد میں نہیں آتے ، وہ نظام جماعت سے تعلق نہیں رکھتے۔ان کی ٹولیاں الگ ہیں، ان کے خاندان کے حالات مختلف ہیں۔بہت سے ایسے ہیں جو سارا سال اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں وقت گزارتے ہیں۔اپنے اہل وعیال سے سلوک میں بھی وہ مسلسل نافرمانی کرتے ہیں۔ایسی (عورتیں) ہیں جو اپنی بہوؤں سے ایسا سلوک کرتی ہیں جن کو رسول خداصلی اہم اور خدا پسند نہیں فرماتا۔ایسی ہیں جو اپنے دامادوں سے ایسا سلوک کرتی ہیں۔اسی تعلق میں مرد بھی ایسے ہیں جو بالکل بر عکس زندگی گزار رہے ہیں، اس زندگی کے برعکس جو حضرت اقدس محمد مصطفی سالی می ایستم کی زندگی تھی۔آیا ما مَعْدُودَاتٍ (البقرة: 185) یہ چند گنتی کے دن تھے رمضان کے جو گزررہے ہیں اور ان کے گزرنے میں اب بہت تیزی آگئی ہے۔دوسری طرف کو رمضان الٹ پڑا ہے اور آخری عشرہ کا بھی ایک بڑا حصہ ہمارے ہاتھوں سے نکل چکا ہے، بڑا حصہ یعنی نصف سے کچھ کم ایک اہم حصہ ہمارے ہاتھوں سے نکل چکا ہے۔اس میں اکیسویں، بائیسویں اور تئیسویں تاریخیں شامل ہیں اور