خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 55
خطبات طاہر جلد 17 55 خطبہ جمعہ 23 جنوری 1998ء جمعۃ الوداع اور جمعہ الاستقبال میں فرق آخری عشرہ کی اہم عبادات اور لیلتہ القدر کا ذکر (خطبہ جمعہ مورخہ 23 جنوری 1998ء بمقام بيت الفضل لندن ) b تشہد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی: وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّى فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ۔پھر فرمایا: (البقرة:187) یہ وہ آیت کریمہ ہے جس کو عنوان بنا کر گزشتہ تین خطبات بھی دیئے گئے اور آج کا خطبہ بھی اسی کے مضمون سے تعلق رکھتا ہے۔آج جمعتہ الوداع ہے اور میں اس جمعہ کو جمعہ الاستقبال بنانا چاہتا ہوں۔یہ فرق ہے دو اصطلاحوں کا جو میں کھول دینا چاہتا ہوں۔بکثرت ایسے لوگ ہیں جن کو اس جمعہ کا انتظار رہتا ہے جمعۃ الوداع کے طور پر اور ایک میں ہوں جو کہ سارا سال اس کو جمعہ الاستقبال بنانے کی خاطر انتظار کرتا ہوں۔یہ کیا مسئلہ ہے یہ میں کھول کر بات بیان کر دیتا ہوں کہ وہ لوگ جو جمعۃ الوداع سمجھتے ہوئے یعنی اپنے جمعہ کو چھٹی دے دی جائے ہمیشہ کے لئے نیکیوں کو چھٹی دیدی جائے ، روزوں کو چھٹی دے دی جائے، ذکر الہی کو چھٹی دے دی جائے اور اسے وداع کر دیا جائے ، اس نیت سے جولوگ اس جمعہ میں شامل ہوتے ہیں وہ بکثرت ایسے ہیں، اگر بکثرت نہیں تو ایک بڑی تعداد ایسی ہے جن کو عام طور پر نہ نمازوں کی توفیق ملتی ہے نہ جمعوں کی توفیق ملتی ہے، نہ ذکر الہی کی توفیق ملتی ہے،