خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 610
خطبات طاہر جلد 17 610 خطبہ جمعہ 4 ستمبر 1998ء مومن وہ ہوتے ہیں جو اپنی امانتوں اور عہدوں پر ہر وقت کڑی نظر رکھتے ہیں۔گڈریے کی نظر اگر غافل رہے تو جو اس سرزمین کی حدود ہیں جہاں بکریوں نے چرنا ہے اس سے وہ نکل کر باہر قدم رکھ دیتی ہیں اور خطرے میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔تو بہت ہی خوبصورت بیان ہے کہ سچے مومن تو وہ ہیں جو ہمہ وقت اپنی امانتوں اور عہدوں پر نگاہ رکھتے ہیں کہ کہیں یہ بدک نہ جائیں، کہیں اپنے مقام کو چھوڑ کر کسی اور طرف نہ چلے جائیں۔وَ الَّذِينَ هُمْ بِشَهدُ تِهِمْ قَامُونَ : اور وہ جو اپنی گواہیوں پر قائم رہتے ہیں۔اب گواہیوں پر قائم رہنے کا کیا مطلب ہو سکتا ہے۔اس کے دو تین معانی ہیں جو میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔اول تو گواہیوں پر مضبوطی سے قائم وہی ہوتا ہے جس کی گواہی حقیقت میں سچی ہو۔جس کی گواہی سچی نہ ہو وہ بیان بدلتا رہتا ہے۔تو وَ الَّذِينَ هُمْ بِشَهدُ تِهِمْ قَابِمُونَ میں یہ ایک صفت ان کی بیان فرمائی گئی ہے کہ وہ گواہی صرف اسی چیز کی دیتے ہیں جس پر پھر وہ ہمیشہ قائم رہ سکتے ہوں۔جب بھی پوچھو گے وہی بات کہیں گے جس بات کے وہ گواہ ہیں اور پشھد تھم قایمون کا یہ بھی مطلب بنتا ہے کہ وہ جو آنکھوں دیکھا ہو وہ بیان کیا کرتے ہیں، جس پر نفس پورے اطمینان کے ساتھ گواہی دے سکتا ہو۔سنی سنائی باتوں کو بیان کرنے والا کبھی بھی اس پر قائم نہیں رہ سکتا۔پھر جب وہ ایک بیان دیتے ہیں تو اس کو لوگوں کے ڈر سے بدلتے نہیں۔بعض دفعہ لوگ بچے بیان کو بھی لوگوں کے ڈر سے بدل دیتے ہیں جب ایک دفعہ بیان بدلا جائے تو اس کی کوئی بھی قیمت نہیں رہتی۔اب امریکہ میں جو پریذیڈنٹ کلنٹن کے ساتھ واقعات ہو رہے ہیں وہ یہی واقعات ہیں، بیان بدلنے والے۔جب بیان بدل دیا جائے تو پہلے بیان کا بھی کوئی اعتبار نہیں اور دوسرے بیان کا بھی کوئی اعتبار نہ رہا اور امریکہ کی عدلیہ اب اسی مخمصہ میں پھنس گئی ہے کہ جن سے بیان بدلوایا گیا تھا ان کا پہلا بیان سچا تھا یا دوسرا اسچا تھا اور وہ عورتیں حلفیہ گواہی دیتی ہیں کہ ہمارا پہلا بیان جھوٹا تھا یہ بیان سچا ہے۔تو خواہ جو مرضی حلف اٹھا ئیں۔جب حلف اٹھا کر کہہ دیا کہ پہلا بیان جھوٹا تھا تو پھر اگلے کا بھی اعتبار نہ رہا اور یہی حال پریذیڈنٹ کلنٹن کا بھی ہے۔وہ بھی حلف اٹھا کر کہہ رہے ہیں کہ جو میں نے پہلے بات کی تھی اس میں کچھ چھپایا تھا اور کھولتے نہیں کہ کیا چھپا یا تھا۔تو عجیب وغریب حال میں انسان مبتلا ہو جاتا ہے اگر قرآنی آیات کی بنیادی نصائح کو نظر انداز کر دے جو ہر کس و ناکس کے لئے برابر ہیں۔