خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 597
خطبات طاہر جلد 17 597 خطبہ جمعہ 28 اگست 1998ء آنحضرت صلی اہیم نے جو ہدایت بخشی ہے اس میں ہم سب مخاطب ہیں۔یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ ہیں اور میں نہیں، میں ہوں تو آپ نہیں لیکن فرق یہ ہے کہ کوئی چلتے چلتے زیادہ آگے نکل گیا ہے، کوئی ابھی پیچھے ہے اور اسے بہت سفر طے کرنا ہے مگر سفر طے کرنا شروع کر دیں تو پھر ہی طے ہو گا۔اگر طے کریں گے ہی نہیں تو کیسے سفر طے ہوگا۔پس تھوڑا یا زیادہ ، کچھ آہستہ کچھ تیز ، کوشش کریں کہ یہ سفر جس کی طرف رسول اللہ لیا کہ تم نے راہنمائی فرمائی ہے اسے ہم روزانہ کچھ نہ کچھ طے کریں۔کوئی دن ہم پر ایسا نہ گزرے جب ہم یقین نہ کر لیں کہ آج ہم نے ایک دو قدم اور بڑھالئے ہیں۔اگر یہ شروع کر دیں تو پھر یہ جماعت ایک جماعت بن جائے گی اور اس کے بغیر یہ افراد میں بٹی ہوئی ہوگی، جماعت نہیں بن سکتی کیونکہ جماعتیں اکٹھی چلتی ہیں اور اکٹھی چلنے کا یہ مطلب نہیں کہ ایک ہی شخص کے وجود کی طرح ایک ہی جسم میں سمٹ جاتی ہیں۔جماعتیں جب چلتی ہیں تو اکٹھی اس طرح چلتی ہیں کہ ایک امام کے پیچھے چلتی ہیں وہ آگے ہوتا ہے اور ان کا جلوس بعض دفعہ بہت لمبا پیچھے چل رہا ہوتا ہے لیکن چلتی اسی سمت میں ہیں اس کو اکٹھا چلنا کہتے ہیں۔اکٹھا چلنے کا یہ مطلب نہیں کہ سمٹ کے ایک دوسرے سے جڑ جڑ کے تو اتنا سمٹ جاتے ہیں کہ گویا ایک ہی وجود بن جاتے ہیں یہ درست نہیں ہے، اکٹھے کا یہ بھی مفہوم ہوتا ہے اور یہ بھی مفہوم ہے جو میں بیان کر رہا ہوں کہ ایک ہی سمت پر چلیں اور کوشش کریں کہ ایک دوسرے سے آگے بڑھیں۔اس کوشش میں کچھ کمزور ہیں جو پیچھے رہ جائیں گے۔کچھ ایسے بھی ہیں جن کو صلاحیتیں ہی نہیں ہیں کہ وہ زیادہ آگے بڑھ سکیں مگر کوشش ضروری ہے۔پس اس پہلو سے حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی ا یہ تم کا یہ فرمان پیش نظر رکھیں کہ اگر دل میں سچ ہے تو جھوٹ ساتھ نہیں رہ سکتا۔اگر انسان امانت دار ہے تو ناممکن ہے کہ خیانت بھی کرے۔یہ آخری منزل ہے جس کی طرف ہمیں سفر کرنا ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی صلی ا یہی تم نے امانت کی اہمیت پر اتنا زور دیا ہے کہ فرمایا نبوت کی صفات میں سے بنیادی صفت امانت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر نبی امانت سے پہچانا جاتا ہے اور امانت ہی کے نتیجے میں اسے نبوت عطا ہوتی ہے۔پس کسی نبی کو جانچنے کی یہ پہچان دائگی ہے۔اس میں ضروری نہیں کہ سب سے افضل نبی کی یہ پہچان ہو۔یہ ایک ایسی پہچان ہے جو ہر نبی میں لازم ہے اور اسی پہچان سے ھر قل نے آنحضرت صلی یا ستم کی پہچان کی تھی۔یہ بخاری کتاب الشهادات سے حدیث لی گئی ہے۔جس کے الفاظ یہ ہیں :