خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 596
خطبات طاہر جلد 17 596 خطبہ جمعہ 28 اگست 1998ء عادتا سچے کے اندر مستقلاً جھوٹ کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہوتی اور یہ وہ پہلو ہے جس سے اگر ہم اپنے آپ کو پرکھیں تو معلوم ہوگا کہ ہم میں بہت کم ایسے ہیں جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ سیال یمن کی اس تشریح کے مطابق بچے کہلا سکتے ہیں۔پس سچا بنے کی کوشش کرو اور یہ بہت مشکل کام ہے اس کے لئے بہت محنت کی ضرورت ہے اور بہت نفس کے تجزیہ کی ضرورت ہے۔انسان اکثر غفلت کی حالت میں زندگی بسر کرتا ہے اور تجزیہ سے کام نہیں لیتا حالانکہ کوئی حقیقت بھی دراصل حقیقت نہیں ہوتی۔اکثر حقیقتیں خیال ہوتی ہیں انسان سمجھتا ہے کہ وہ حقیقت ہے مگر وہ حقیقت نہیں ہوتی۔اس کا اگر پوری طرح احساس ہو جائے کہ بسا اوقات انسان ساری زندگی دھوکے کی زندگی بسر کر رہا ہوتا ہے اور وہم میں مبتلا ہوتا ہے کہ میری زندگی ایک حقیقی زندگی ہے اگر اس کا پوری طرح احساس ہو جائے تو ہرلمحہ انسان باشعور ہو جائے گا، ہر لمحہ انسان بیداری کے ساتھ اپنی باتوں کو پر کھتا رہے گا اور جائزہ لیتا رہے گا یہی ایک طریق ہے جس کے ذریعے انسان کو اپنی پہچان ہو سکتی ہے اور اسی کا نام عرفان ہے۔کوئی شخص بھی اگر اپنا عرفان نہیں رکھتا یا درکھیں کہ اسے اللہ کا عرفان بھی نصیب نہیں ہو سکتا۔پس یہ تمام مضمون ایک دوسرے سے متعلق ہیں اور ایک کو چھوڑ کر دوسرے کو حاصل نہیں کیا جا سکتا۔تو پہلی نصیحت تو آج کے خطبہ میں یہی ہے کہ اپنے نفس کا عرفان حاصل کرنے کی کوشش کرو اور یہ عرفان رفتہ رفتہ حاصل ہوتا ہے۔یہ ایک دن یا دو دن کا کام نہیں ، مہینوں اور سالوں کا کام بھی نہیں ہے۔آپ اپنے اوپر یہ تجربہ کر کے تو دیکھیں جب بھی آپ روزانہ اپنی باتوں کا جائزہ لینے کی عادت ڈالیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ان میں سے بہت سی باتیں خیالی تھیں اور فرضی تھیں۔پس سارا دن یہ محاسبہ ہونا چاہئے ، سارا دن انسان کو اپنی باتیں الٹ پلٹ کر دیکھتے رہنا چاہئے۔یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ میں نے حضور اکرم صلی یا سیستم کی اس نصیحت کے مطابق اپنے اوپر بارہا تجربہ کیا ہے اور روز اسی تجربے میں زندگی گزرتی ہے اور بسا اوقات با وجود پوری کوشش کے میں دن کی باتوں کا جائزہ لیتا ہوں تو پتا چلتا ہے کہ ان میں بھی بعض بے حقیقت باتیں تھیں، خالی باتیں تھیں جو میں سمجھ رہا تھا کہ ٹھیک ہیں مگر گہرے تجزیہ سے وہ درست نہیں نکلتیں۔پس اس میں آپ کا اور میرا کوئی فرق نہیں۔آپ بھی اسی راہ کے سالک ہیں جس راہ کا میں سالک ہوں اور ہدایت کی تلاش میں جس طرح آپ رواں دواں ہیں ویسے ہی میں بھی ہوں اور