خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 570
خطبات طاہر جلد 17 570 خطبہ جمعہ 14 اگست 1998ء ہے۔( لیکن آخری بات وہی مٹی میں مل جانے والی بات فرما ر ہے ہیں ) خاک شو پیش از آنکه خاک شوی ،، مٹی میں مل جاؤ پیشتر اس کے کہ وہ وقت آ جائے کہ تم مٹی میں ملا دئے جاؤ، کہ مجبوراً مٹی میں مل جاؤ اس کا لفظی ترجمہ یہی بنے گا کہ مٹی میں خودل جاؤ پیشتر اس کے کہ تم مجبور امٹی میں مل جاؤ۔مٹی میں تو ملنا ہی ہے اس سے پہلے پہلے کیوں نہیں مٹی میں ملتے۔اپنے آپ کو اس راہ میں خاک کر دے اور پورے صبر اور استقلال کے ساتھ اس راہ میں چلے۔آخر اللہ تعالیٰ اس کی سچی محنت کو ضائع نہیں کرے گا اور اس کو وہ نور اور روشنی عطا کرے گا، جس کا وہ جو یا ہوتا ہے۔میں تو حیران ہو جا تا ہوں اور کچھ سمجھ (میں) نہیں آتا کہ انسان کیوں دلیری کرتا ہے جب کہ وہ جانتا ہے کہ خدا ہے۔“ ( الحکم جلد 5 نمبر 11 صفحہ:10 مؤرخہ 25 مارچ 1901ء) پس ان سب امور کا ایک لازمی گہرا تعلق ہستی باری تعالیٰ پر ایمان کی حقیقت کے ساتھ ہے جس گہرائی کے ساتھ یہ حقیقت آپ کے دل میں جلوہ گر ہوگی اسی گہرائی کے ساتھ آنحضرت صلی یہ اہم اور روح القدس بھی آپ کو عطا ہونی شروع ہو جائے گی۔کشتی نوح میں آپ فرماتے ہیں : نماز اور صبر کے ساتھ خدا سے مدد چاہو۔نماز کیا چیز ہے۔وہ دعا ہے جو تسبیح تحمید، تقدیس اور استغفار اور درود کے ساتھ تضرع سے مانگی جاتی ہے۔سو جب تم نماز پڑھو تو بے خبر لوگوں کی طرح اپنی دعاؤں میں صرف عربی الفاظ کے پابند نہ رہو کیونکہ ان کی نماز اور ان کا استغفار سب رسمیں ہیں جن کے ساتھ کوئی حقیقت نہیں۔“ کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ: 69،68) انسان کو جو حکم اللہ تعالیٰ نے شریعت کے رنگ میں دئے ہیں جیسے آقِیمُوا الصَّلوةَ (البقرة: 44)، نماز کو قائم رکھو۔یا فرمایا ، وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبُرِ وَالصَّلوة ان پر جب وہ ایک عرصہ تک قائم رہتا ہے تو یہ احکام بھی شرعی رنگ سے نکل کر گونی رنگ اختیار کر لیتے ہیں اور پھر وہ ان احکام کی خلاف ورزی کر ہی نہیں سکتا۔“ الحکم جلد 7 نمبر 25 صفحہ:15 مؤرخہ 10جولائی 1903ء)