خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 532 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 532

خطبات طاہر جلد 17 532 خطبہ جمعہ 31 جولائی 1998ء ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی یا تم نے فرمایا اگر مومن کو اللہ تعالیٰ کی سزا اور گرفت کا اندازہ ہو کہ جب وہ سزا دینے پر آئے اور گرفت کا فیصلہ فرمائے تو اتنی سخت اور شدید ہوگی وہ گرفت، اگر مومن کو علم ہو جائے کہ خدا اگر ناراض ہو تو اتنی بڑی گرفت ہوتی ہے تو وہ جنت کی اُمید ہی نہ رکھے۔کیوں جنت کی اُمید نہ رکھے اس لئے کہ مومن کو یہ احساس رہنا چاہئے کہ عملاً وہ اتنا گناہ گار، وہ بلا ارادہ بھی گناہ گار ہے اور خطا تو اس کے ساتھ لگی ہوئی ہے اور اللہ اس کی ہر کمزوری کو پکڑے تو سزا واجب ہو جائے گی اور اگر سز اواجب ہو جائے اور اس کو پتا ہو کہ خدا کی گرفت کتنی سخت ہے تو وہ جنت کی اُمید ہی کھو بیٹھے، اس کے دل میں یقین ہو جائے کہ مجھے کبھی جنت نصیب نہیں ہو سکتی۔اگر کافر کو اللہ تعالیٰ کے خزائن رحمت کا اندازہ ہو تو وہ اس کی جنت سے نا اُمید نہ ہو اور یقین کرے کہ اتنی بڑی رحمت سے بھلا کون بد قسمت محروم رہ سکتا ہے۔یہ بظاہر دو متضاد باتیں ہیں۔ایک طرف چھوٹی سی غلطی پر یہ خوف که خدا بہت سخت گرفت فرمائے گا ، ایک طرف ساری عمر کے گناہوں کے باوجود جو پہاڑوں کے برابر ہوں یہ امید کہ اللہ تعالیٰ ان سب گناہوں کو بخش سکتا ہے۔یہ دو باتیں بظاہر متضاد ہیں مگر متضاد نہیں ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ یہی تو پل صراط ہے جس سے ڈرنے کی ہمیں تلقین کی جاتی ہے۔اس احتیاط سے اس صراط کو طے کرنا ہے کہ خدا کے غضب کی طرف نہ گر پڑیں اور اس اُمید پر اس صراط کو طے کرنا کہ جب بھی قدم اٹھا ئیں خدا کی رحمت کی جانب گریں۔یہ وہ رستہ ہے جس کی طرف یہ حدیث بلا رہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک تحریر آخر پر میں نے رکھی تھی مگر اس سے پہلے میں آپ کو یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ ان ساری باتوں کو حرز جان بنانے کا ارادہ ہی نہ کریں، ان کو حرز جان بنالیں۔اب اس جلسہ پر آپ کی طرف سے جو بھی رویہ ہو وہ انہی ہدایات کی روشنی میں ہو کیونکہ آنحضرت صلی ای ایم کے ارشادات کو سن کر پھر ان پر عمل کرنے میں تاخیر کا فیصلہ جائز نہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ زندگی کا اعتبار نہیں۔کون جانتا ہے کہ کب اسے ملک الموت بلا لے گا۔ایک لمحہ کا بھی اعتبار نہیں۔اچھے بھلے ایسے صحت مند جن کے متعلق لوگ رشک کی نگاہیں ڈالا کرتے تھے اچانک اس دُنیا سے رخصت ہو گئے۔کئی دفعہ مجھے ایسے خطوط ملتے ہیں۔ابھی کل ہی کی ڈاک میں یہ خط تھا کہ ہمارے باپ بالکل ٹھیک ٹھاک کوئی بھی نقص نہیں ، ساری عمر کوئی بیمار نہیں اچانک فوت ہو گئے۔