خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 531 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 531

خطبات طاہر جلد 17 531 خطبہ جمعہ 31 جولائی 1998ء عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى تَتَفَطَرَ قَدَمَاهُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ : لِمَ تَصْنَعُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَدْ غَفَرَ اللهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَرَ قَالَ: أَفَلَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا " (صحيح البخاری، کتاب التفسير باب قوله : ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك -- حدیث نمبر :4837) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ آنحضرت سلی لیتم بعض دفعہ راتوں کو اتنا لمبا عرصہ تک کھڑے رہتے تھے کہ تتفطر قدماه : آپ صلی الیہ امام کے پاؤں پھٹ جایا کرتے تھے خون کے دباؤ کی وجہ سے۔میں نے عرض کی کہ لِمَ تَصْنَعُ هَذَا : آپ مصلی تم کیوں ایسا کرتے ہیں اے اللہ کے رسول جبکہ وَقَدْ غَفَرَ اللهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَرَ : آپ سلام کے متعلق تو خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ فرما دیا ہے کہ سابقہ تمام غفلتیں بھی معاف ہوئیں اور آئندہ بھی اگر کوئی غفلت ہوئی تو معاف ہوگی۔اتنے یقینی مغفرت کے وعدے کے بعد پھر آپ صل للہ یہ تم کیوں کرتے ہیں؟ قَالَ أَفَلا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا : کیا میں پسند نہ کروں کہ اتنے بڑے فضل کے نتیجے میں ایک شکر گزار بندہ بنوں۔عجیب حال ہے اور ہم میں سے اکثر وہ ہیں جو دن رات اللہ کے فضلوں کی بارش کو دیکھتے ہیں اور شاذ کے طور پر شکر کی توفیق ملتی ہے۔منہ سے الحمد اللہ بھی کہتے ہیں اللہ کا شکر ہے، بھی بار بار کہہ دیتے ہیں مگر کہاں یہ شکر، کہاں شکر کے نتیجے میں راتوں کو جگا دینا۔ایسا شکر ادا کرنا کہ آسمان کے کنگرے بھی ہل جائیں اور وہ شکر پھر اللہ کی نعمتوں کو آپ پر آسمان سے نازل فرما رہا ہو۔یہ وہ شکر ہے جس کا نمونہ پکڑیں اور ایسے شکر کے بغیر حقیقت میں ہم دنیا میں کسی کامیابی کی امید نہیں رکھ سکتے لیکن یاد رکھیں جتنا شکر کریں گے اتنا ہی زیادہ اللہ کی رحمتیں نازل ہونگی ، جتنا حمتیں نازل ہونگی دعا کرتے رہیں کہ اتنا ہی زیادہ شکر کی توفیق ملتی رہے۔مسلم کتاب التوبة سے یہ روایت ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ، مَا طَمِعَ بِجَنَّتِهِ أَحَدٌ، وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الرَّحْمَةِ، مَا قَنَطُ مِنْ جَنَّتِهِ أَحَدٌ (صحیح مسلم، کتاب التوبة باب فى سعة رحمة الله و انها سبقت غضبه، حدیث نمبر : 6979)