خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 528
خطبات طاہر جلد 17 528 خطبہ جمعہ 31 جولائی 1998ء ترجمہ اس کا یہ ہے کہ حضرت معاذ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلیہ السلام سے عرض کی کہ مجھے کوئی ایسا کام بتائیے جو مجھے جنت میں لے جائے اور دوزخ سے دور رکھے۔آپ مسی کی ہم نے فرمایا تم نے ایک بہت بڑی مشکل بات پوچھی ہے لیکن اگر اللہ تعالیٰ توفیق دے تو یہ آسان بھی ہے یعنی ہر اس شخص کے لئے جس کے لئے اللہ تعالیٰ آسان فرما دے۔تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا۔نماز با قاعدگی سے پڑھ، زکوۃ ادا کر۔زکوۃ تو ہر ایک پر فرض نہیں ہوا کرتی لیکن نماز میں با قاعدگی اختیار کرنا ہر ایک پر فرض ہے۔رمضان کے روزے رکھ۔اگر تو بیت اللہ تک جانے کی توفیق پائے اور رستہ صاف ہو ، بیت اللہ تک جانے کا رستہ خطرات سے پاک ہو تو حج کر۔پھر آپ ملی یہ تم نے فرمایا کیا میں بھلائی اور نیکی کے دروازوں کے متعلق تجھے نہ بتاؤں۔سنو روزہ گناہوں سے بچنے کی ڈھال ہے، صدقہ گناہ کی آگ کو اس طرح بجھا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔رات کے درمیانی حصہ میں نماز پڑھنا اجر عظیم کا موجب ہے۔پھر آپ صلی یا یہ تم نے یہ آیت پڑھی تتجافى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا اس آیت کو آخر تک پڑھا۔پھر فرمایا کیا میں تم کو سارے دین کی جڑ بلکہ اس کا ستون اور اس کی چوٹی نہ بتاؤں۔میں نے عرض کیا جی ہاں یارسول اللہ صلی لی ایم ضرور بتائیے۔آپ صلیم نے فرمایا دین کی جڑ اسلام ہے، اس کا ستون نماز ہے، اس کی چوٹی جہاد ہے۔پھر آپ سی ای ایم نے فرمایا کیا میں تجھے اس سارے دین کا خلاصہ نہ بتاؤں کیونکہ باتیں بہت سی ہوگئی تھیں یہ خطرہ ہوسکتا تھا کہ وہ بھول جائیں سب باتوں کو۔تو بالآخر جسے ہم کہتے ہیں۔خلاصہ کلام۔آپ مال لا کی تم نے فرمایا کیا میں تمہیں اس سارے دین کا خلاصہ نہ بتاؤں؟۔میں نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ صلی الی اہم ضرور بتائیے۔آپ صلی اللہ الیہ تم نے اپنی زبان کو پکڑا اور فرمایا اسے روک رکھو۔میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلیہ کی تم ! کیا ہم جو کچھ بولتے ہیں اس کا بھی ہم سے مواخذہ ہوگا۔آپ سال کا یہی تم نے فرمایا تیری ماں تجھ کو کم کر دے۔یہ ایک پیار کا کلمہ ہے ، کوئی غصہ کا اور بددعا کا کلمہ نہیں۔عرب اسی طرح کہا کرتے تھے لیکن یہ محاورہ بولتے افسوس کے موقع پر تھے۔تیری ماں تجھے گم کر دے میں دونوں باتیں شامل ہیں۔ایک تو یہ کہ موقع افسوس کا ہے جب ماں کسی بچے کو گم کر دے اور کہنے کا طریق نرم اور محبت کا ہوا کرتا تھا۔مطلب تھا یہ بددعا نہیں ہے تم نے بات ایسی کہی ہے جو اسی طرح بری خبر ہے جیسے ماں کسی بچے کو گم کر دے۔