خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 518 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 518

خطبات طاہر جلد 17 518 خطبہ جمعہ 24 جولائی 1998ء گے بلکہ اسی تھیلے میں ڈال لیا کریں تو بہر حال اس کا جیب میں ڈالنا ضروری تو نہیں ہے اس کو پھر ہاتھ میں پکڑے رکھیں۔جب کوئی ڈسٹ بن (Dust Bin) آئے تو اس کو اس میں پھینک دیا کریں۔اب کچھ امور آخر پر حفاظتی نقطہ نگاہ سے میں آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔جماعت احمدیہ کا جو حفاظت کا نظام ہے یہ کل عالم میں یکتا ہے اور اس میں ادنی سا بھی مبالغہ نہیں۔دُنیا میں کہیں کسی اجتماع پر یا کسی دُنیا کے بڑے سربراہ کے لئے حفاظت کا ایسا موثر انتظام نہیں ہوتا جتنا جماعت احمدیہ میں روایتیا رائج ہو چکا ہے۔اس کے کچھ پہلو ہیں جو میں آپ کے سامنے کھول کر بیان کرنا چاہتا ہوں۔ایک تو یہ کہ ہر احمدی نگران ہوتا ہے اور خاص طور پر وہ احمدی جو بڑے اخلاص سے خلیفہ وقت سے ملنے آئے ہیں وہ ان کے خطوں سے پہلے بھی لگ رہا ہے، یہاں آنے کے بعد بھی کہ ان کو فکر رہتی ہے کہ اتنے بڑے اجتماع میں حفاظت کا پورا انتظام ہے کہ نہیں۔تو ان کو میں یہ نصیحت کر رہا ہوں ، باقیوں کو بھی کہ سب سے بڑی حفاظت کا انتظام تو آپ خود ہیں۔آنکھیں کھول کر پھر میں اور جس شخص سے بھی آپ کو احساس ہو کہ خطرہ ہو سکتا ہے اس کے متعلق چند باتیں پلے باندھ لیں۔بعض دفعہ بڑے مخلص احمدی ہوتے ہیں مگر ان کی شکل صورت ایسی ہوتی ہے کہ بعض دوسروں کو ان سے کچھ ڈر بھی لگتا ہے۔وہ اپنے اپنے حلیے ہیں، میں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا مگر ایسا ہی ایک واقعہ ایک جلسہ پر ہوا تھا۔ایک شخص انتہائی مخلص مگر حلیہ کے لحاظ سے بڑا مشٹنڈا اور اتفاق سے داڑھی مونچھ منڈھا ہوا۔اس کی اتنی سخت نگرانی ہو رہی تھی کہ جیسے سارا خطرہ اسی سے درپیش ہے۔جب مجھے بتایا گیا اور میں نے دیکھا تو میں نے کہا ا ا للہ یہ تو میں جانتا ہوں بہت مخلص فدائی احمدی ہے۔اس کو اپنے کام میں لائیں ، حفاظت کے کام میں تو ایک ان کو میری نصیحت ہے آنے والوں کو بھی اور رہنے والوں کو بھی جو بھی جلسہ میں ہوں کہ اپنے دائیں بائیں کی حفاظت کریں۔دُنیا میں کہیں بھی یہ نظام رائج نہیں۔جب بھی کوئی شخص حملہ کرنا چاہتا ہے تو باوجود ہر قسم کے آلات کے جو اس کی جیبوں ،اس کے جسم پر چھپے ہوئے ہتھیاروں کی خبر دیتے ہیں اس کے باوجود وہ لے جاتا ہے۔بے شمار طریقے دُنیا نے ایجاد کئے ہوئے ہیں تو ایسا شخص جو کسی ہتھیار کو استعمال کرنا چاہے اس کو لازماً کوئی تیزی سے حرکت کرنی پڑتی ہے۔وہ جیب کی طرف یا کہیں ہاتھ ڈالتا ہے اگر دائیں بائیں بیٹھے ہوئے ہوشیار ہوں تو ناممکن ہو جائے گا اس کے لئے کہ ایسی حرکت کر سکے۔پس اصل نگران تو اللہ ہی ہے مگر اللہ نے