خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 500
خطبات طاہر جلد 17 500 خطبہ جمعہ 17 جولائی 1998ء اللہ تعالیٰ ان کے اس اخلاص کو قبول فرمائے۔جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے اس کی جماعت کو ضرورت نہیں ہے اور ضرورت کا کچھ سوال بھی پیدا نہیں ہوتا۔پیسوں کی خاطر یہ خطبے نہیں دئے تھے ، لوگوں کی خاطر دئے تھے کہ لوگ اپنی اصلاح کریں اور اللہ کی نظر میں مقبول ٹھہریں۔خطبہ ثانیہ کے بعد حضور انور نے فرمایا: پچھلے خطبات میں لوگوں نے میری آواز میں کچھ دیکھا ہوگا جیسے ہلکی ہلکی کھانسی بعض دفعہ اٹھتی ہے۔کھانسی نہیں وہ گلا صاف کرنے کے لئے بعض دفعہ ایک ضرورت محسوس ہوتی ہے اس کے لئے میں نے بعض مناسب دوائیں استعمال کیں مگر فائدہ نہیں ہو رہا تھا۔تو اب ایک بات پکڑی گئی ہے جو میں آپ کے سامنے عرض کر رہا ہوں کیونکہ بہت سے لوگ آرہے ہیں اور ان کی خواہش ہوگی کہ وہ کچھ نہ کچھ تحفہ مٹھائی کی صورت میں یا کسی اور شکل میں دیں مگر ساتھ اصرار کرتے ہیں کہ تم ضرور کھاؤ اور وہ اکثر بناسپتی گھی کی تیار کی ہوئی چیزیں ہوتی ہیں جن کے خلاف مجھے سخت الرجی ہے۔تو کل ہی ایک صاحب تشریف لائے تھے کہ میں نے اپنے ہاتھ سے جلیبیاں تیار کی ہیں۔ہاتھ سے تو کی ہیں مگر کی تھیں بناسپتی میں۔اصرار تھا کہ ضرور چکھو۔وہ چکھتے ہی ایک دم جو پہلی دواؤں کا اثر تھا سارا جاتا رہا۔تو اس لئے میں یہ بات بیان کر رہا ہوں کہ جلسہ پر آنے والے ضرور کوشش کریں گے کہ ان کا دیا ہوا میٹھا میں ضرور چکھوں یا نمک بھی، جو بھی ہو۔وہ یا درکھیں کہ مجھے بناسپتی گھی سے سخت الرجی ہوتی ہے اور دواؤں کا جو فائدہ پہنچا ہوتا ہے اس کا کیا دھر ا سب ضائع ہو جاتا ہے۔تو مہربانی فرما کر اس لحاظ سے جلسہ کے مہمانوں پر رحم کریں کہ مجھے تقریریں کھلی آواز سے کرنے کی توفیق مل جائے اور اپنے گھروں میں بھی جائزہ لیں۔جن لوگوں کو بناسپتی سے الرجی ہوتی ہے بعض دفعہ ان کو پتا بھی نہیں چلتا اور ہر وقت خود بھی اور بچوں کو بھی کسی نہ کسی گلے یا چھاتی کی بیماری میں مبتلا دیکھتے ہیں تو یہ نسخہ بھی آزما کے دیکھ لیں۔میں اُمید رکھتا ہوں کہ ان کو فائدہ پہنچے گا۔