خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 476
خطبات طاہر جلد 17 476 خطبہ جمعہ 10 جولائی 1998ء عزیزہ طوبی جو میری چھوٹی بچی ہے اس کی شادی طلاق پر منتج ہوئی ہے اور یہ طلاق آخری صورتوں میں مکمل ہو چکی ہے۔اب اس بات پر اظہار ہمدردی ہو سکتا ہے مگر انتظار فرما ئیں تو آپ مبارکباد دیں گے نہ کہ ہمدردی کا اظہار کریں گے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی بنی ہے آج کے خطبہ میں بیان کرنے کی کیونکہ چہ میگوئیاں ہور رہی ہیں اور یہ بات اگر چہ میری طرف سے اعلان نہیں ہوا مگر پھیلتی چلی گئی ہے کہ اس بچی کو طلاق ہو گئی ہے اس کے نتیجہ میں وہ دبے لفظوں میں ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں جو مجھے تکلیف دیتا ہے اور اس لئے تکلیف دیتا ہے کہ غلط ہمدردی ہے اور خطرہ یہ ہے کہ جلسہ پر آنے والے بہت سے لوگ مرد، خصوصاً عورتیں میری اس بچی پر رحم کی نظر ڈالیں گی جن کی اس کو کوئی ضرورت نہیں ہے۔ان کی رحم کی نظریں بجائے فائدہ پہنچانے کے اس کو تکلیف دیں گی اس لئے اپنے اس رحم کو سنبھال کر رکھیں اللہ کا رحم بہت کافی ہے جو ہو چکا ہے اور اس پر ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے پوری طرح راضی ہیں۔اب اس وضاحت کے بعد میں آپ کے سامنے یہ بات کھولتا ہوں کہ اس سے پہلے میری جتنی بچیوں کی بھی شادیاں ہوئی ہیں آپ اس وقت ویڈیوز اگر دیکھیں جو میرے پاس موجود ہیں تو آپ حیران ہوں گے کہ میں نے بہت ہنستے کھیلتے ہوئے خوشی سے ان کو رخصت کیا تھا، غم کا کوئی اثر نہیں تھا۔مائیں روتی ہیں بچی کی جدائی پر مگر یہ موقع خوشی کا موقع ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے آئندہ زندگی کی خوشیوں کے بہت اچھے سامان پیدا کر دیئے اس لئے رونے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔اس شادی کی جو تصویریں دنیا میں پھیلی ہیں اُس میں جماعت نے اس وقت بھی محسوس کیا اور بعد میں بھی مجھے لکھتے رہے لیکن ان کے لئے یہ بات معمہ بنی رہی کہ کیوں ایسا ہوا کہ میں نے اس موقع پر بہت ہی دردناک صورت اختیار کئے رکھی، اتنی کہ اپنے غم کو برداشت کرنا اور سنبھالنا بعض دفعہ میرے قابو میں نہیں رہتا تھا اس لئے میں کوشش کر رہا تھا کہ زیادہ بات بھی نہ کروں تا کہ دل کا غم پھوٹ نہ پڑے۔اس کو رخصت کرنے میں غم کیا تھا؟ غم اس بات کا تھا کہ شروع سے جب یہ رشتہ تجویز ہوا تھا ایک لمحہ کے لئے بھی مجھے اس رشتہ کی کامیابی پر یقین نہیں تھا بلکہ برعکس یقین تھا کہ ناممکن ہے کہ یہ رشتہ کامیاب ہو۔وہ وجوہات جن کی وجہ سے مجھے یقین تھا ان میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ ایسی رویا تھیں ، بعض کشوف بھی تھے جن سے مجھے یقین ہو چکا تھا کہ یہ رشتہ مناسب ہے ہی نہیں۔پھر یہ رشتہ کیوں کیا گیا