خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 462 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 462

خطبات طاہر جلد 17 462 خطبہ جمعہ 3 جولائی 1998ء وہی پیغام آج میرے لئے بھی ہے اور کل کے آنے والے خلفاء کے لئے بھی ہوگا کہ لوگ بڑھیں گے جوق در جوق شوق سے آئیں گے۔آگے بعض ایسے زمانے بھی آنے والے ہیں وہ ایک نظر خلیفہ کو دیکھنے کے لئے ترسیں گے اور دیکھیں گے تو ان کا دل ٹھنڈا ہوگا حالانکہ بعض دفعہ گھنٹوں انہوں نے انتظار کیا ہو گا کہ وہ آئے اور ایک جھلک ہم دیکھ لیں۔دُنیا میں بھی ایسا ہوتا ہے اور یہ انسانی فطرت ہے جس شخص کی دل میں کسی پہلو سے عظمت ہو اس کے لئے انسان ایسے ہی کیا کرتا ہے۔تصویروں میں آپ دیکھتے ہوں گے شاید ٹیلی ویژن کی خبروں میں بھی دیکھتے ہوں گے کہ بعض دفعہ کسی صدر یا کوئین (Queen) وغیرہ کے گزرنے کے لئے سارا سارا دن لوگ دورویہ سڑکوں پر کھڑے رہتے ہیں اور صرف ایک نظر ، اس سے زیادہ کچھ نہیں اور اگر جوا باوہ شخص نظر ڈال لے تو پھر ساری عمران کا سرمایہ بن جاتا ہے حالانکہ ان دُنیا کی نظروں کی کوئی بھی حیثیت نہیں۔خدا کے نزدیک تو نظریں کام نہیں آیا کرتیں۔نظر وہی ہے جو اللہ کی نظر کے تابع ہو۔پس ایسا زمانہ آئے گا اور ضرور آئے گا کہ اگر کسی شخص نے دیکھا کہ ایک نظر بھی مجھ پر کسی نے ڈال لی ہے تو وہی اس کا سرمایہ حیات ہو جائے گا۔تو آپ آئندہ دنیا کے لئے ، آئندہ صدیوں کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا سرمایہ ہیں اس لئے کیسے ممکن ہے کہ میں آپ کی قدر نہ کروں۔میں جو باتیں تلخی سے سمجھانے کے لئے کرتا ہوں بعض دفعہ وہ تھی دکھ کی علامت ہے، غصہ کی علامت نہیں کبھی بھی میں تحقیر کی نظر سے نہیں دیکھتا جماعت کے لوگوں کو۔ان کو بھی جو چندہ نہیں دے سکتے جن کے دل، جن کی مٹھیاں بند ہیں ان پر بھی میں رحم کی نظر ڈالتا ہوں۔میں جانتا ہوں کہ یہ گھاٹا کھارہے ہیں۔قرآن کریم نے صاف بیان کر دیا کہ فَأُولبِكَ هُمُ الخسِرُونَ۔یہی ہیں جو گھاٹا کھانے والے ہیں۔تو ان سب کو میں سمجھانے کی کوشش تو کرتا ہوں مگر یا درکھیں کبھی بھی میری نظر میں یہ حقیر دکھائی نہیں دیتے بلکہ مظلوم دکھائی دیتے ہیں۔اپنے ہی ہاتھوں کے ظلم کا شکار ہیں۔پس جو کچھ اس سفر کے دوران گزرا ہے یہ اس کی تشریح کر رہا ہوں اس کی روشنی میں آپ میرے عمل کو جانچیں اور اس کی روشنی میں ہی اپنے عمل کو بھی جانچیں اور اپنی اولاد کی فکر کریں۔بہت سے بچے ضائع ہورہے ہیں ، غیر معاشرہ ان پر قبضہ کر رہا ہے۔کبھی کسی دنیا میں غیر معاشرے کو اتنی طاقت گھروں میں داخل ہونے کی نہیں ہوئی جتنی آج ہو چکی ہے۔جیسا کہ میں نے عرض کیا تھا یہاں