خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 461 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 461

خطبات طاہر جلد 17 461 خطبہ جمعہ 3 جولائی 1998ء نہیں جاتا کہ یہ کیا ہو رہا ہے مگر میں یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ چند لمحوں کی ملاقات بھی بعض دفعہ ایک سرمایہ حیات بن جایا کرتی ہے مگر وہ لوگ جو ملاقات کی خاطر بعض دفعہ گھنٹوں بیٹھتے ہیں ان کو میں سمجھانا چاہتا ہوں کہ ان کی تکلیف سے زیادہ میرا دل تکلیف محسوس کرتا ہے۔مجھے بہت شرم آتی ہے اس بات سے کہ گھنٹوں انتظار کے بعد بے چارے آئے اور کھڑے کھڑے السلام علیکم، چاکلیٹ بچوں کے لئے لے لو، تصویر کھنچواؤ اور رخصت ہو جاؤ۔اب اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ میرا دل سخت ہے۔میں ان کی تکلیف کو محسوس کرتا ہوں۔گھنٹوں جو باہر بیٹھے ہوئے ہیں ان کی تکلیف لمحہ لمحہ میرے دل پہ گزر رہی ہوتی ہے اور اس میں کوئی بھی شک نہیں، ذرہ بھی اس میں جھوٹ نہیں ہے مگر میں مجبور ہوں کہ جتنے بھی مل سکتے ہیں ان سے مل کر ان چند لمحوں میں کوئی ایسی بات کروں کہ ان کی زندگی کا سرمایہ بن سکے اور مجھے پتا ہے کہ آئندہ جب میں گزر جاؤں گا تو یہی سرمایہ حیات ہے جو آپ کے بچوں کے کام آئے گا ، عمر بھر کا سرمایہ بن جائے گا۔اگلی نسلوں کے لئے ، ان کی صدیاں جو آنے والی ہیں ان سب کا یہ سرمایہ حیات بن جائے گا۔اس لئے میں ملاقات سے جتنا مرضی وقت گزرے اس سے تنگ نہیں آتا اور مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ الہام یاد آ جاتا ہے کہ: لا تَسْلَمُ مِنَ النَّاسِ " (کتاب البریۃ، روحانی خزائن جلد 13 صفحه : 309) لوگوں سے تنگ نہ آ۔اب یہ الہام اگر چہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہوا مگر یہ اس زمانہ کا نقشہ کھینچنے والا الہام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو کبھی بھی لوگوں سے تنگ نہیں آئے۔آپ کی تحریر پڑھ کے دیکھیں آپ ساری دُنیا کو دعوت دے رہے ہیں آؤ۔غیروں کو بھی دعوت دے رہے ہیں کہ آؤ اور میرے پاس ٹھہرو اور فرماتے ہیں کہ کئی کئی دن ٹھہرو۔بعض دفعہ جب جانے کا نام لیتے تھے تو آپ کو تکلیف ہوتی تھی کہ نہیں آؤ میرے پاس گھر میں ہی ٹھہرو۔گھر مہمان خانہ بنا ہوا تھا۔تولا تسلم من النَّاس کا کیا مطلب ہوا کہ لوگوں سے تنگ نہ آ۔یہ پیش گوئی تھی کہ ایسا زمانہ آنے والا ہے جب دل کی خواہش کے باوجود تیرے غلاموں کے لئے ممکن نہیں ہوگا کہ ہر ایک سے مل سکیں۔وہ دل سے تنگ نہیں ہوں گے مگر دیکھنے میں یہ نظارہ دکھائی دے گا کہ اتنی مخلوق ملنے والی تو دل میں تنگی ہو سکتی ہے۔فرما یالا تسقم من الناس۔مسیح موعود علیہ السلام کو جو پیغام ہے