خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 451
خطبات طاہر جلد 17 451 خطبہ جمعہ 3 جولائی 1998ء وو وَتَكَاثُر فِي الأمْوَالِ : اور دوڑ ، مال بڑھانے کی دوڑ ہو جائے۔ہر شخص کی کوشش ہو کہ میر امال بڑھے اور دوسرے سے زیادہ ہوتا کہ مال کی برتری کا مزا لوٹوں۔وَالْاَولاد : اور اولاد کے بڑھنے کا بھی ان معنوں میں کہ اولاد کی طاقت بڑھے، ان معنوں میں اولاد کے بڑھنے کا بھی ایک Craze جس کو کہتے ہیں، جنون ہو جاتا ہے کہ مال بھی بڑھیں، اولا د بھی بڑھے اور ہم دُنیا کی نظر میں اونچے اٹھ جائیں اور اپنی سوسائٹی کے مقابل پر ان کو ہم نیچا دیکھیں۔یہ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ دنیا کی زندگی ہے مگر یاد رکھو كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكَفَارَ نَبَاتُه ایک بارش کی طرح ہے جس سے روئیدگی نکلتی ہے، سبزہ نکلتا ہے جب وہ زمین پر پڑتی ہے اور جو ناشکرے لوگ ہیں یا انکار کرنے والے۔یہاں الكفار کا لفظ وسیع معنوں میں ہے۔وہ لوگ جو اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرنے والے ہیں وہ اس روئیدگی کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں۔کہتے ہیں دیکھو ہماری دنیا کی محنت کیسا کیسا پھل لائی ہے۔پھر وہ زرد رو ہو جاتی ہے ، اس کی رونق جاتی رہتی ہے فتراه مصفرا وہ خشک ہو کر زردورُو ہو جاتی ہے اور تو اس لہلہاتی کھیتی کو مُصْفَراد یکھتا ہے ثُمَّ يَكُونُ حُطاما پھر وہ کٹے ہوئے گھاس پھوس کی طرح ہو جاتی ہے۔وَ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ : اس دُنیا میں بھی ایک عذاب ہے ان لوگوں کے لئے کہ اپنی سرسبز اور شاداب ہوتی کھیتی کو وہ لہلہاتی ہوئی دیکھنے کے بعد، بھیج کے لفظ میں لہلہانے کا مضمون ہے خوب موجیں مارتی ہے، ہواؤں کے ساتھ ہلتی ہے، جب وہ زرد حالت میں دیکھتا ہے تو اس وقت اسے صدمہ پہنچتا ہے ساری دُنیا کی محنت اکارت گئی اور پھر جب وہ ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے، چورا چورا ہو جاتی ہے تو پہلا عذاب تو یہ ہے جو وہ دُنیا میں اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے پھر فرما یا آخرت میں بھی ایسے لوگوں کے لئے بڑا عذاب مقدر ہے اور بعض کے لئے اللہ کی طرف سے مغفرت اور رضا ہے یعنی یہ صورت حال سب پر برابر چسپاں نہیں ہوتی۔بعض خدا کے بندے مستفی ہیں۔وہ ایسے معاشرہ میں رہتے ہیں اس کے بداثرات سے ہمیشہ بچنے کی کوشش کرتے ہیں، دعائیں کرتے ہیں، ان کو بھی دنیا کی زندگی کے انعامات ملتے ہیں لیکن اپنی آنکھوں کے سامنے اسے لہلہانے کے بعد زردر و ہوتا نہیں دیکھتے۔فرمایا ایسے لوگوں میں سے کچھ وہ لوگ ہیں کہ جن کے لئے مغفرت بھی ہے اور رضوان بھی ہے۔اللہ ان سے بخشش کا سلوک فرمائے گا اور ان سے راضی ہو جائے گا لیکن بعض ایسے بھی ہیں وَ مَا