خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 450 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 450

خطبات طاہر جلد 17 450 خطبہ جمعہ 3 جولائی 1998ء ٹیلی ویژن جھوٹی ، ان کے ذرائع ابلاغ جھوٹے۔کسی زمانہ میں تو یہ کارٹون وغیرہ جو پیش کیا کرتے تھے وہ اصلیت پر مبنی ہوا کرتے تھے اور اصلی کردار والے مزاحیہ لوگ اس میں پیش ہوا کرتے تھے۔اب تو ساری باتیں فرضی گھڑی ہوتی ہیں۔کمپیوٹر کے ذریعہ جو چاہیں بنائیں اور اس کا ہماری اگلی نسلوں پر بہت بُرا اثر پڑ رہا ہے۔اگلی نسلیں جو عادی ہو چکتی ہیں کمپیوٹر کی کھیلیں دیکھنے کی ان کے دماغ میں کسی اور چیز کی اہمیت ہی باقی نہیں رہتی۔اگر ایسے بچوں کے ماں باپ ان کو MTA پر ساتھ بٹھا بھی لیں گے تو وہ او پری اوپری چیزیں دکھائی دیں گی ان کو۔دل اسی میں انکا رہتا ہے کہ وہ جو فرضی کھیلیں ہیں آسمانی مخلوق جن کا کوئی ذکر ہی کوئی وجود ہی نہیں ، اچانک کمپیوٹر کے ذریعہ اٹھ کھڑے ہونے والے جنات ان سب باتوں میں ان کا دل اٹکارہتا ہے اور وہ عمر جو Impressionable عمر ہے جس میں گہرے تاثرات قائم ہوتے ہیں اس عمر میں ان کے گہرے تاثرات ایک فرضی کہانی کے سوا اور کوئی نہیں رہتے۔ساری دُنیا ایک کھیل تماشہ ہے۔یہ اطلاق کہ سب دنیا کھیل تماشہ ہے، یہ پیغام ہے جو امریکہ کے ذرائع ابلاغ آپ سب کو، آپ کے سب بچوں کو دے رہے ہیں اور اپنا کیا حال ہو گیا ہے اس کے نتیجے میں، سب اکھڑے ہوئے ہیں۔ملاقات کے دوران یہ بھی مجھے تجربہ ہوا کہ بہت سے امریکن احمدی مجھے ملنے کے لئے آئے اور جب ان سے گفتگو کی تو بظا ہر خوشکن لیکن ہر ایک کا دل دکھی تھا۔ان کی کوئی عائلی زندگی نہیں تھی تھی تو ٹوٹ چکی تھی۔اعتبار اُٹھ چکے ہیں۔نہ خاوند کو بیوی پر اعتبار، نہ بیوی کو خاوند پر اعتبار اور ایک فرضی تصور، اطمینان کے تصور میں وہ دوڑے چلے جارہے ہیں۔کچھ پتا نہیں کہ کیا انجام ہوگا۔بہت بڑی بڑی عمر کے آدمی بھی دیکھے جو شادی سے محروم تھے کیونکہ ان کی ابتدائی زندگی احمدیت کے قبول کرنے سے پہلے عیش و عشرت کی تلاش میں دوڑنے میں خرچ ہوگئی اور اب اس عمر کو آپہنچے ہیں کہ کوئی ان سے شادی کرنے کو تیار نہیں ہے۔تو بہت سی ایسی مصیبتیں ہیں جو امریکن زندگی کی پیداوار ہیں اور اس پہلو سے اس آیت کا اطلاق ان پر ہوتا ہے۔جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے یہ جو زینت ہے یہ آخر تفاخر میں تبدیل ہو جاتی ہے۔یہ لہو ولعب جو ہے یہ زینت میں اور زینت تفاخر میں بدل جاتی ہے۔آخری ماحصل یہ رہ گیا کہ میرے پاس اچھی کوٹھیاں ہیں ، اچھے محلات ہیں، اچھی دُنیا کی زینت کے سامان ہیں۔یہاں تک تو کچھ قابل قبول تھا مگر جب یہ تفاخر بن جائے، ایک دوسرے پر فخر کا ذریعہ بن جائے تو وہاں سے پھر خرابی بہت گہری ہو جاتی ہے۔