خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 424 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 424

خطبات طاہر جلد 17 424 خطبہ جمعہ 19 جون 1998ء جیسا کہ خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا الخَيْرُ كُلُّهُ فِي الْقُرْآنِ کہ تمام قسم کی بھلائیاں قرآن کریم میں ہیں۔یہی بات سچ ہے۔افسوس ان لوگوں پر جو کسی اور چیز کو اس پر مقدم رکھتے ہیں۔تمہاری تمام فلاح اور نجات کا سرچشمہ قرآن ( مجید ) میں ہے۔کوئی بھی تمہاری ایسی دینی ضرورت نہیں جو قرآن میں نہیں پائی جاتی۔“ کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ : 29،28) اب یہ جو پہلو ہے قرآن کریم سے محبت کا اس کے متعلق آج کل میں بہت زور دے رہا ہوں کہ خصوصاً بچوں کو قرآن کریم پڑھنا لکھنا سکھایا جائے اور اس کے معانی بھی ساتھ ساتھ سکھائے جائیں۔اکثر لوگ جو ناظرہ پڑھا دیتے ہیں وہ کافی نہیں ہے۔اگر ناظرہ قرآن کے ساتھ ساتھ آپ اس کے معانی بھی کچھ سکھاتے چلے جائیں تو قرآن کریم سے محبت ہونا ایک لازمی بات ہے۔اب مجھے علم نہیں کہ آپ میں سے کتنے ہیں جو میری قرآن کریم کی کلاس کو غور سے سنتے ہیں یا سن سکتے ہیں یا ان تک پہنچتی بھی ہے کہ نہیں مگر اس کلاس میں جو آنے والے ہیں ان میں کم علم عورتیں بھی ہیں ، بڑے بڑے صاحب علم مرد بھی ہیں لیکن جب قرآن کریم کو سمجھا کر پڑھایا جائے تو اس سے محبت ہونا ایک لازمی بات ہے، آدمی رک ہی نہیں سکتا محبت کئے بغیر۔قرآن کریم پڑھانا اور خشکی یہ دو چیزیں اکٹھی ہوہی نہیں سکتیں۔چنانچہ میں اپنی کلاس کو سمجھاتا ہوں اور بسا اوقات دیکھتا ہوں کہ جب میں قرآن کریم سے فطرت کے راز ان کو سمجھاتا ہوں ، قرآن کریم نے کن کن رازوں سے پردہ اٹھایا ہے ، کیا کیا معرفت کی باتیں کی ہیں، میری نظر اٹھتی ہے تو میں اُن کو بھی روتے ہوئے دیکھتا ہوں اور میری اپنی آنکھیں بھی آنسو بہا رہی ہوتی ہیں۔اب خشک تعلیم سے تو آنسو نہیں جاری ہوا کرتے۔لازماً اللہ تعالیٰ کی محبت کے چشمے بہہ رہے ہیں قرآن کریم میں اور وہی چشمے ہیں جو سننے والوں کی آنکھوں سے اور سنانے والے کی آنکھوں سے جاری ہو جاتے ہیں۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام جب قرآن کریم کے متعلق اس کو نعمت بیان فرماتے ہیں تو ہر گز ایک ذرہ بھی مبالغہ اس میں نہیں ہے۔ایسی ایسی معرفت کی باتیں قرآن کریم میں بیان ہیں کہ ناممکن ہے کہ قرآن کریم پڑھیں اور اس سے محبت نہ ہو جائے اور اگر قرآن سے محبت ہو جائے تو زندگی کے سارے مسائل حل ہو جائیں گے جن لوگوں کو محبت ہوتی ہے ان کی ساری برائیاں دور ہو جاتی ہیں، ان کو ایک نئی زندگی نصیب ہوتی ہے۔