خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 412 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 412

خطبات طاہر جلد 17 412 خطبہ جمعہ 19 جون 1998ء اور ہزار ہا سے مراد محض ہزار ہا نہیں بلکہ ہزار ہا ایک محاورہ ہے جس کا مطلب ہے کہ اتنے ہیں کہ ان کا شمار ہی ممکن نہیں۔کس کس پہلو سے، کیا کیا تعداد معین ہوتی ہے یہ ایک بہت اہم علمی مسئلہ ہے اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کو نہ صرف علمی فائدہ ہوگا بلکہ روحانی فوائد بھی بہت پہنچیں گے۔چنانچہ سب سے پہلا اقتباس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 550 سے ہے۔عنوان ہے قرآن کے دو بڑے حکم ہیں۔اب کہاں چارسو، پانچ سو، سات سو، ہزار ہا اور بات شروع ہوئی ہے دو بڑے حکم ہیں اور جب آپ مفہوم کو سمجھیں گے تو دل گواہی دے گا کہ ہاں دراصل تو قرآن انہی دوا حکام کے گرد گھوم رہا ہے۔فرمایا: باہم بخل اور کینہ اور حسد اور بغض اور بے مہری چھوڑ دو۔( یہ ایک حکم ہے جس کے تابع پھر اور بہت سی باتیں آگئیں ) باہم بخل اور کینہ اور حسد اور بغض اور بے مہری چھوڑ دو اور ایک ہو جاؤ۔قرآن شریف کے بڑے حکم دو ہی ہیں۔ایک توحید ومحبت و اطاعت باری عزاسمہ۔دوسری ہمدردی اپنے بھائیوں اور اپنے بنی نوع کی۔“ یہ مرکزی نقطہ ہے تمام قرآنی تعلیمات کا کہ اللہ کی توحید اور اس کی محبت اور اس کی اطاعت میں اپنے آپ سے کھوئے جاؤ اور کلیہ اپنی گردن خدا کی محبت اور عشق اور اطاعت کے حضور خم کر دو اور اگر ایسا کرو گے تو دوسرا حکم طبعاً اسی سے نکلتا ہے جو خدا کا ہو جائے یہ ہو کیسے سکتا ہے کہ وہ خدا کے بندوں کا نہ ہو۔پس دراصل تو ایک ہی حکم ہے جس کے تابع پھر یہ دوسرا حکم از خود ایک فطری تقاضہ کے طور پر پھوٹتا ہے اپنے بھائیوں اور اپنے بنی نوع انسان کی ہمدردی کرو۔اس کے بعد فرمایا: اور ان حکموں کو اس نے تین درجہ پر منقسم کیا ہے جیسا کہ استعداد میں بھی تین ہی قسم کی ہیں اور وہ آیت کریمہ یہ ہے اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَايْتَاتِي ذِي الْقُرْبَى “ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 550) یہ وہی آیت ہے جس کی میں نے ابھی آپ کے سامنے تلاوت کی تھی۔اب اس اجمال کی تفصیل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں سنئے۔آپ فرماتے ہیں: اب میں پہلے کلام کی طرف رجوع کرتا ہوں۔میں ابھی ذکر کر چکا ہوں کہ انسانی حالتوں کے سرچشمے تین ہیں یعنی نفس امارہ نفس تو امہ ( اور ) نفسِ مطمئنہ۔اور طریق