خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 398
خطبات طاہر جلد 17 398 خطبہ جمعہ 12 جون 1998ء الكفر ملۃ واحدۃ کا رسالہ جو شائع ہوا ہے اس کا حوالہ الفضل 1948ء سے ہے۔یہ الکفر ملة واحدة کا جو مضمون ہے یہ تو سارے عرب میں اور اس سے باہر بھی بہت شہرت پکڑ گیا تھا تو یہ الفاظ تھے جن سے آپ نے مسلمانوں کی غیرت اور عزت اور رول اللہ ایم ایم کی محبت کو انگیخت کیا۔پاکستان کے قیام کے دوران جو خدمات چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے ادا کی ہیں وہ ایک الگ تفصیلی باب ہے جس کے متعلق چوہدری محمد علی صاحب سابق وزیر اعظم پاکستان اپنی مشہور کتاب ”پاکستان“ کے صفحہ 360 پر تفصیل سے ذکر کرتے ہیں۔چوہدری محمد علی صاحب احمدی تو نہیں تھے۔بنگالی شریف النفس انسان تھے اور پاکستان کے وزیر اعظم رہے ہیں انہوں نے کھلے لفظوں میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو خراج تحسین پیش کیا کہ پاکستان کے قیام کے بعد کشمیر کی حمایت میں اس سے زبردست تقریریں آپ کو کہیں اور نہیں ملیں گی جیسے ظفر اللہ خان نے کیں اور جو کوششیں کیں ان کا ذکر طویل ہے۔( ظهور پاکستان از چودھری محمد علی ،مترجم بشیر احمد راشد، صفحه : 360 مطبع کارواں پریس۔لاہور، اگست 1985ء۔The Emergence of Pakistan by Ch۔Muhammad Ali Pg:301-302,Columbia University Press New York and London 1967) جہاں تک مسئلہ فلسطین کا تعلق ہے حضرت مصلح موعودؓ نے اس کا آغاز کیا اور چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے یونائیٹڈ نیشنز یعنی اقوام متحدہ میں مسئلہ فلسطین کی ایسی پیروی کی کہ اس کی کوئی نظیر آپ کو کہیں تاریخ میں نہیں ملے گی، حیرت انگیز فصاحت و بلاغت سے پانچ پانچ گھنٹے آپ نے تقریریں کیں۔اور ایک ایسا موقع تھا جب کہ امریکہ اور اسرائیل کی یعنی جو بننے والا تھا ابھی ، اسرائیلیوں کی سازش سے تمام انتظامات مکمل ہو چکے تھے کہ یونائیٹڈ نیشنز میں جب یہ مسئلہ پیش ہوگا تو بھاری اکثریت اسرائیل کے قیام کے حق میں ووٹ دے گی اس وقت ظفر اللہ خان اٹھے ہیں تقریر کے لئے اور فی البدیہہ ایسی تقریر کی ہے کہ مسلمان جتنے بھی نمائندے تھے وہ جوش سے بار بارا ٹھتے تھے اور بعض روتے ہوئے آپ کے ہاتھوں کو چومتے تھے کہ ظفر اللہ خان تم نے اسلام اور فلسطین کی حمایت کا حق ادا کر دیا۔اس کے اوپر جو بعد میں تبصرے چھپے ہیں وہ بہت زیادہ ہیں ان کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔میں صرف اتنا بتا دیتا ہوں کہ امریکہ اور صیہون کی پوری کوششوں کے باوجود اس وقت کے نمائندگان جو یونائیٹڈ نیشنز میں موجود تھے ان کی اکثریت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے دلائل سے متاثر ہو گئی۔اگر اس وقت ووٹ لے لیا جاتا تو اسرائیل کے قیام کا ریزولیوشن پاس ہونا ناممکن تھا۔اس وقت جیسے دجل کی عادت ہے فوری طور پر امریکہ نے دخل دے کر یہ سوال اٹھایا