خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 378 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 378

خطبات طاہر جلد 17 378 خطبہ جمعہ 5 جون 1998ء یہ ترجمہ جو تفسیر صغیر سے پیش کیا گیا ہے یہ تفسیری ترجمہ ہے۔جہاں تک اس مضمون سے تعلق ہے جو آج میں نے آپ کے سامنے بیان کرنا ہے اس میں اس کے بعض پہلو ، بعض ایسے الفاظ سے تعلق رکھتے ہیں جو اس آیت میں وضاحت کے ساتھ درج ہیں۔وَ يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ یہ ہے بنیادی نکتہ میرے آج کے خطاب کا۔غلاظ شداد کی بحث تو الگ ہے میں اس وقت اس کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا کہ غلاظ شد اڈ کن معنوں میں ہیں۔میں صرف یہ عرض کروں گا کہ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ یہ فرشتوں کی ایک صفت ہے اور آج کا میرا مضمون اسی صفت مَا يُؤْمَرُونَ سے تعلق رکھتا ہے۔اسلام میں دو طرح کی اصطلاحیں رائج ہیں۔ایک مامور کی اور ایک اولوالامر یا ذ والامر کی۔مامور ہمیشہ فرشتوں سے مشابہت رکھتے ہوئے وہی کچھ کرتا ہے جس کا اس کو حکم دیا گیا ہے،اُس سے ہٹ کر اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کر سکتا مگر بعض لوگ صرف مامور ہوتے ہیں اور بعض مامور بھی اور اولوالا مر بھی یعنی مامور ہونے کے لحاظ سے جو کچھ کہا جائے وہی کر سکتے ہیں اس سے زائد یا کم نہیں کرتے اور اولوالامر ہونے کے لحاظ سے وہ حکم بھی دیتے ہیں اور حکم کا دائرہ مامور کے دائرے کے اندر ہوا کرتا ہے لیکن انہیں حکم دینے کا اختیار ہے ہر موقع پر وہ اپنی سوچ کے مطابق حکم دے سکتے ہیں۔اسی طرح دنیا دار اولوالامر کا حال ہے ان کو بھی ایک دائرے میں محدود ہو کر اپنے حکم کو جاری کرنا چاہئے جو قوانین کا دائرہ ہے ، جو ان لوگوں کی توقعات کا دائرہ ہے جنہوں نے ان کو ووٹ دئے اور اس نسبت سے وہ مامور ہوئے لیکن اپنی ماموریت کی حیثیت کو بھول جاتے ہیں اور اولوالا مر بنتے ہیں اور ان لوگوں کو اپنی مرضی کے مطابق حکم دیتے ہیں۔یہ دنیا داروں کا حال ہے مگر جہاں تک ان کے اولوالامر ہونے کا تعلق ہے اس سے انکار نہیں اور جب تک وہ اولوالا مر رہتے ہیں ان کی اطاعت کرنی ضروری سمجھی جاتی ہے۔یہ ساری بحثیں نظام جماعت سے تعلق رکھنے والی بخشیں ہیں۔آج میں اس نیت سے ان بحثوں کو چھیڑ رہا ہوں کہ بعض دفعہ ضرورت پڑتی ہے کہ سلسلہ کے کارکنوں کو ان کی حیثیت ، ان کے دائرہ کار کے متعلق اچھی طرح وضاحت سے سمجھایا جائے۔میں نے محسوس کیا ہے کہ بعض لوگ مثلاً معتمد جن کا فریضہ ایک جماعت میں معتمد کا ہے وہ لوگ بعض دفعہ ذوالا مر بھی بننے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ