خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 354
خطبات طاہر جلد 17 354 خطبہ جمعہ 22 مئی 1998ء ” یہی امور ہیں جن کے لئے ہر ایک بیعت کنندہ کو بقدر وسعت مدد دینی چاہئے تا خدا تعالیٰ بھی انہیں مدد دے۔اگر بے ناغہ ماہ بماہ ان کی مدد پہنچتی رہے گو تھوڑی مدد ہو تو وہ اس مدد سے بہتر ہے جو مدت تک فراموشی اختیار کر کے پھر کسی وقت اپنے ہی خیال سے کی جاتی ہے۔“ یہ وہ پہلو ہے جو آپ کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔بعض دفعہ بعض لوگ مہینوں خاموش رہتے ہیں بعض سالوں خاموش رہتے ہیں اور پھر اچانک ایک رقم پیش کر دیتے ہیں۔اب میرا یہ دستور ہے کہ اس رقم کو میں واپس کر دیا کرتا ہوں چاہے وہ لاکھوں میں ہو کیونکہ اصل روح جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے پیش فرمائی ہے وہ باقاعدگی سے ماہ بماہ کچھ دینا ہے۔اچانک چار پانچ سال سونے کے بعد کچھ دے دینا اس کی میری نظر میں کوڑی کی بھی اہمیت نہیں اور یہ جتلانے کے لئے کہ تم یہ نہ سمجھو کہ تم اللہ کے دین کی کوئی بڑی خدمت کر رہے ہو میں رو پیدان کو واپس کر دیا کرتا ہوں۔فرماتے ہیں: ہر ایک شخص کا صدق اس کی خدمت سے پہچانا جاتا ہے۔عزیز و! یہ دین کے لئے اور دین کی اغراض کے لئے خدمت کا وقت ہے۔اس وقت کو غنیمت سمجھو کہ پھر کبھی ہاتھ نہیں آئے گا۔چاہئے کہ زکوۃ دینے والا اسی جگہ اپنی زکوۃ بھیجے۔اور ہر ایک شخص فضولیوں سے اپنے تئیں بچاوے اور اس راہ میں وہ روپیہ لگاوے اور بہر حال صدق دکھاوے تا فضل اور روح القدس کا انعام پاوے کیونکہ یہ انعام اُن لوگوں کے لئے تیار ہے جو اس 66 سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں۔“ کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحه : 83) اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ذی مقدرت لوگوں کو بطور خاص مخاطب ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی توفیق بخشی ہوئی ہے۔سواے اسلام کے ذی مقدرت لوگو! دیکھو! میں یہ پیغام آپ لوگوں تک پہنچا دیتا ہوں کہ آپ لوگوں کو اس اصلاحی کارخانہ کی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نکلا ہے اپنے سارے دل اور ساری توجہ اور سارے اخلاص سے مدد کرنی چاہئے اور اس کے سارے پہلوؤں کو بنظر عزت دیکھ کر بہت جلد حق خدمت ادا کرنا چاہئے۔“